Reporter Quetta
Important News, Videos and pictures about Balochistan ,Pakistan and all around the world.
17/04/2026
ایک سال میں 26 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات، 430 جانیں ضائع، 34 ہزار زخمی
کوئٹہ — بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک حادثات نے خطرناک حد اختیار کر لی ہے۔ ریسکیو 1122 کے میڈیکل ہلیت افسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچ نے بی این این کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں کوئٹہ اور اس کے آس پاس 26 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 430 افراد جاں بحق جبکہ 34 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ڈاکٹر امیر بخش بلوچ نے کہا کہ یہ اعدادوشمار تشویش ناک ہیں اور ماہرین کے مطابق حادثات کے بڑے اسباب میں خراب سڑکیں، تیز رفتاری، اوور لوڈنگ، ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ٹریفک انتظام کا فقدان شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید بگڑ سکتا ہے اور انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل ایمرجنسی کیسز پر مامور ہیں، لیکن سڑکوں کی خراب حالت اور بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کی وجہ سے صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کی سڑکیں اب صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ موت کا جال بنتی جا رہی ہیں۔ فوری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔
15/04/2026
جامعہ بلوچستان میں انٹرن شپ پروگرام پر اسٹیک ہولڈرز میٹنگ کا انعقاد کیا گیا.
جامعہ بلوچستان میں انسانی حقوق انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے علاقائی اسٹیک ہولڈرز میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
یہ میٹنگ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے حقوقِ پاکستان دوم منصوبے کے تحت منعقد ہوئی، جس کا مقصد طلبہ اور حالیہ گریجویٹس کو تین ماہ کی انٹرن شپ کے ذریعے عملی تجربہ فراہم کرنا ہے۔
میٹنگ سے اسکول آف لیڈرشپ فاؤنڈیشن کے نمائندہ فیضان عرفات، ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس و سوشل ویلفیئر اشرف گچکی، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ذوالفقار درانی، نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی نمائندہ فرخندہ اورنگزیب، ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے اور ڈائریکٹر کیو اے اے ڈی جامعہ بلوچستان ڈاکٹر آصف سجاد ڈائریکٹر جی آئی ایل جامعہ بلوچستان ڈاکٹر وحید نورنے خطاب کیا۔
مقررین نے نوجوانوں کو عملی تربیت، ادارہ جاتی تعاون اور انسانی حقوق کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
آخر میں شرکاء نے باہمی تعاون کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
12/04/2026
ایک محسن استاد کو خراجِ تحسین — پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر، یونیورسٹی آف بلوچستان کے علمی ارتقاء کے معمار
کوئٹہ ___ یونیورسٹی آف بلوچستان نے اپنے مایہ ناز سابق پروفیسر بائیوکیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر کو ان کی دہائیوں پر محیط گراں قدر علمی و انتظامی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے ایک خصوصی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔
پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر یونیورسٹی کے علمی ارتقاء کے کلیدی معماروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے لیے دیرپا حکمت عملی مرتب کی اور ایچ ای سی کوالیفکیشن اسٹرینتھننگ پروگرام کے تحت 29 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے مواقع فراہم کیے۔ انہی اساتذہ میں ڈاکٹر وحید نور (جو اب CBRM کی قیادت کر رہے ہیں)، ڈاکٹر عجب خان کاسی (امریکی پیٹنٹس کے حامل) اور تھائی لینڈ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے والے سکالرز شامل ہیں جن کی بدولت جامعہ میں جدید شعبوں کا قیام ممکن ہوا۔
ان کی کاوشوں سے سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن ویکسینولوجی اینڈ بائیوٹیکنالوجی کا قیام عمل میں آیا۔ انہی کی قیادت میں تیار کردہ ویکسین آج پاکستان سمیت پڑوسی ممالک میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر 2009 میں ریٹائر ہوئے، تاہم ان کا وژن اور محنت آج بھی یونیورسٹی آف بلوچستان کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ نے 2026 میں پہلی بار ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں جگہ بنائی۔
یونیورسٹی آف بلوچستان اپنے اس محسن استاد کے علمی وژن اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Quetta