Ali Raza Gadgor

Ali Raza Gadgor

Share

چوہدری علی رضا گڈگور
اچھائی کا بدلہ اچھائی ہوتا ہے برائی کا بدلہ برائی ہوتا ہے

Photos from Ali Raza Gadgor's post 31/05/2026

💞💕

22/05/2026

اللہ کے ہاں مساوات اور امیر و غریب کا ایک ہونا
اللہ تعالیٰ کو یہ عاجزی اور مساوات کس قدر پسند ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حج جیسے عظیم فریضے میں اللہ نے بادشاہ اور فقیر دونوں کے لیے ایک ہی لباس اور ایک ہی میدان مقرر کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجرات میں واضح فرما دیا کہ کسی کو کسی پر کوئی برتری نہیں سوائے تقویٰ کے:
> **"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"**
> *"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"* (سورہ الحجرات: 13)

رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر، جو مساوات کا سب سے بڑا منشور ہے، فرمایا:
> **"أَلا لا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ ، وَلا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ ، وَلا لأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ ، وَلا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلا بِالتَّقْوَى"**
> *"سن لو! کسی عربی کو کسی عجمی (غیر عرب) پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے، سوائے تقویٰ کے۔"*
(مسند احمد)
> غریبوں کا مال کھا کر امیر بننا اور حقوق العباد
آپ نے جو دوسری بات کی کہ "ہم لوگ غریبوں کا مال کھا کر امیر بنے ہوتے ہیں"، یہ اسلام میں سب سے سنگین گناہوں میں سے ایک ہے جسے **"حقوق العباد" (بندوں کے حقوق)** کہا جاتا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے دوسروں کا مال ناحق کھانے سے سخت منع فرمایا ہے:
> **"وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ"**
> *"اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو۔"* (سورہ البقرہ: 188)

رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو مفلس (غریب/کنگال) کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

> *"میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ سب لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پس اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوموں کے گناہ اس کے سر ڈال کر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"
(صحیح مسلم)

کیا ایسے شخص کو اللہ معاف کرے گا؟ اس کا جواب بہت واضح ہے۔ **اللہ تعالیٰ اپنے حقوق (جیسے نماز، روزہ وغیرہ) تو اپنی رحمت سے معاف کر سکتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق (کسی کا حق مارنا، غریب کا مال کھانا) اللہ تب تک معاف نہیں کرتا جب تک وہ مظلوم بندہ خود معاف نہ کرے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> *"جس شخص نے اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کیا ہو یا اس پر کوئی اور ظلم (جیسے مال مارنا) کیا ہو، تو اسے چاہیے کہ آج (دنیا ہی میں) اس سے معافی مانگ لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم۔"* (صحیح بخاری)

اللہ کی نظر میں سب انسان برابر ہیں، دولت اور غریبی دنیا کے عارضی امتحانات ہیں۔ جو لوگ غریبوں کا استحصال کر کے، ان کا مال دبا کر امیر بنتے ہیں، ان کی یہ امیری دنیا تک ہی محدود ہے۔ اگر وہ دنیا میں غریبوں کا حق لوٹا کر ان سے معافی نہیں مانگیں گے، تو آخرت کے اس میدان میں (جس کا ایک چھوٹا سا نمونہ یہ تصویر ہے) وہ بالکل کنگال ہو جائیں گے اور اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا جب تک صاحبِ حق معاف نہ کرے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Sargodha?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Sargodha , Kotmoman
Sargodha
0000