Azhar_Writes09
This page is for Poetries, Motivationl, Entertainment, Islamis & Historical Posts. Follow Page 😊❤
بیوی: آج دھونے کے لئے زیادہ کپڑے مت نکالنا۔
شوہر: کیوں؟
بیوی: کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی
شوہر: کیوں؟
بیوی: اپنی نواسی سے ملنے بیٹی کے پاس جا رہی ہے، کہہ رہی تھی دو دن نہیں آؤں گی۔
شوہر: ٹھیک ہے، زیادہ کپڑے نہیں نکالوں گا۔
بیوی: اور ہاں !!! ماسی کو پانچ سو روپے دے دوں؟
شوہر: کیوں؟ ابھی عید آ ہی رہی ہے، تب دے دیں گے۔
بیوی: ارے نہیں بابا !! غریب ہے بیچاری، بیٹی اور نواسی کے پاس جا رہی ہے، تو اسے بھی اچھا لگے گا۔اور کچھ اپنی نواسی کے لئے بھی لے جائے گی۔ اس کی بیٹی اور نواسی بھی خوش ہوجائیں گی۔ویسے بھی اس مہنگائی کے دور میں اس کی تنخواہ سےکیا بنتا ہوگا۔ اپنوں کے پاس جا رہی ہے،کچھ ہاتھ میں ہوگا تو خوش رہے گی۔
Follow the page for more.
شوہر: تم تو ضرورت سے زیادہ ہی جذباتی ہو جاتی ہو میرا خیال اس کی ضرورت نہیں۔
بیوی: آپ فکر مت کریں میں آپ سے ایکسٹرا پیسے نہیں مانگو گی۔ میں آج کا پیزا کھانے کا پروگرام منسوخ کر دیتی ہوں۔خواہ مخواہ 500 روپے اڑ جائیں گے، اس موٹی روٹی پیزا کے آٹھ ٹکڑوں کے بدلے اس کی مدد مجھے بہتر لگتی ہے۔
شوہر: واہ، واہ بیگم صاحبہ آپ کے کیا کہنے !! ہمارے منہ سے پیزا چھین کر ماسی کی پلیٹ میں؟ چلو آپ کی محبت میں یہ بھی برداشت کئے لیتے ہیں۔
تین دن بعد
شوہر: (پونچھا لگاتی كام والی ماسی سے پوچھا) اماں کیسی رہی چھٹی؟
ماسی: صاحب بہت اچھی رہیں۔ مالکن جی نے پانچ سو روپے دیئے تھے بڑے کام آئے۔ اللہ سلامت رکھے اور اللہ آپ کو بہت زیادہ عطا کرے۔
شوہر: اماں 500 روپے کا کیا کیا لیا؟
ماسی: نواسی کے لئے 150روپے کی فراک لی اور 40روپے کی گڑیا، بیٹی کے لئے 50روپے کے پیڑے لے گئی تھی، 50 روپے کی جلیبیاں محلے میں بانٹ دیں' 60 روپے کرایہ لگ گیا تھا۔ 25 روپے کی چوڑیاں بیٹی کے لئے اور داماد کے لئے 50روپے کا بیلٹ لیا۔ باقی 75 روپے بچے تھے وہ بھی میں نے نواسی کو کاپی اور پنسل خریدنے کے لئے دے دئیے۔
جھاڑوپونچھا لگاتے ہوئےپوراحساب اس کی زبان پر رٹا ہوا تھا۔
شوہر: 500روپے میں اتنا کچھ ؟؟؟ وہ حیرت سے دل ہی دل میں غور کرنے لگا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے آٹھ ٹکڑوں والا پیزا گھومنے لگا، وہ ان آٹھ ٹکڑوں کا موازنہ ماسی کے خرچ سے کرنے لگا۔ پہلا ٹکڑا بچے کی ڈریس کا، دوسرا ٹکڑا پیڑےکا، تیسرا ٹکڑا محلے کے لوگو ں کا' چوتھا کرایہ کا، پانچواں گڑیا کا، چھٹا ٹکڑا چوڑيوں کا، ساتواں داماد کی بیلٹ کا اور آٹھوا ں ٹکڑا بچی کی کاپی پنسل کا۔
آج تک اس نے ہمیشہ پیزا کا اوپر والا حصہ ہی دیکھا تھا، کبھی پلٹ كر نہیں دیکھا تھا کہ پیزا پیچھے سے کیسا لگتاہے۔ لیکن آج كا م والی ماسی نے پیزے کا دوسراحصہ دکھا دیا تھا۔ پیزے کے آٹھ ٹکڑے اسے زندگی کا مطلب سمجھا گئے تھے۔زندگی کے لئے خرچ یا خرچ کے لئے زندگی کا جدید مفہوم ایک جھٹکے میں اسے سمجھ میں آگیا۔ ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں پرکبھی غور ہی نہیں کرتے ہمارے لئے پانچ سو یا ہزار کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی لیکن یہ ہزار پانچ سو غریبوں کے لئے بڑی رقم ہوتے ہیں۔ اس لئے کبھی کبھی اپنی نہ محسوس ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کسی کے نام کرکے دیکھو آپ کو کیسے بڑی خوشی ملتی ہے۔
انسان کو کیسے پتہ چلے کہ اس کا دل بیمارہے؟اس سلسلہ میں حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ نے کچھ علامت بتائی ہیں-
💛 پہلی علامت: 💛
جب انسان فانی چیزوں کو باقی چیزوں پر ترجیح دینے لگے تو وہ سمجھ لے کہ میرا دل بیمار ہے ۔ مثلاً دنیا کا گھر اچھا لگتا ہے مگر آخرت کا گھر بنانے کی فکر نہیں ہے۔ دنیا میں عزت مل جائے مگر آخرت کی عزت یا ذلت کی سوچ دل میں نہیں۔ دنیا میں آسانیاں ملیں مگر آخرت کے عذاب کی پرواہ نہیں۔
💛 دوسری علامت: 💛
جب انسان رونا بند کردے تو وہ سمجھ لے کہ دل سخت ہوچکا ہے۔ کبھی کبھی انسان کی آنکھیں روتی ہیں اور کبھی کبھی انسان کا دل روتاہے۔ دل کا رونا آنکھوں کے رونے پر فضیلت رکھتاہے۔ یہ ضروری نہیں کہ انکھ سے پانی کا نکلنا ہی رونا کہلاتا ہے، بلکہ اللہ کے کئی بندے ایس بھی ہوتے ہیں کہ ان کےدل رو رہے ہوتے ہیں گویا ان کی آنکھوں سے پانی نہیں نکلتا مگر ان کا دل سے رونا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتاہے اور ان کی توبہ کے لئے قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں تو دل اور آنکھوں میں سے کوئی نہ کوئی چیز ضرور روئے اور بعض کی تو دونوں چیزیں رورہی ہوتی ہیں۔آنکھیں بھی رو رہی ہوتی ہیں اور دل بھی رورہا ہوتاہے ۔
💛 تیسری علامت: 💛
مخلوق سے ملنے کی تو تمنا ہو لیکن اسے اللہ رب العزت سے ملنا یاد ہی نہ ہو تو سمجھ لے کہ یہ میرے دل کے لیے موت ہے ۔ لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے تعلقات ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک دوسرے سے ملنے کی تمنا ہوتی ہے وہ اداس ہوتے ہیں اور انہیں انتظار ہوتاہے مگر اللہ کی ملاقات یاد ہی نہیں ہوتی۔
💛 چوتھی علامت: 💛
جب انسان کا نفس اللہ رب العزت کی یاد سے گھبرائے اور مخلوق کے ساتھ بیٹھنے سے خوش ہو تو وہ بھی دل کی موت کی پہچان ہے۔ اللہ کی یاد سے گھبرانے کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا دل تسبیح پڑھنے اور مراقبہ کرنے سے گھبرائے۔ اس کے لیے مصلیٰ پربیٹھنا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ ایک موٹا سا اصول سمجھ لو کہ اگر بندے کا اللہ کے ساتھ تعلق دیکھنا ہو تو اس کا مصلے پر بیٹھنا دیکھ لو۔ ذاکر شاغل بندہ مصلے پر اسی سکون کے ساتھ بیٹھتا ہے جس طرح بچہ ماں کی گود میں سکون کےساتھ بیٹھتا ہے اور جس کے دل میں کجی ہوتی ہے اس کے لیے مصلے پر بیٹھنا مصیبت ہوتی ہے وہ سلام پھیر کر مسجد سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ کئی تو ایسے ہوتے ہیں کہ
مسجد میں آنے کے لیے
ان کا دل آمادہ
ہی نہیں ہوتا.
02/08/2024
لیلیٰ مجنوں کی اصل کہانی
لیلیٰ مجنوں کا قصہ کیا تھا۔یہ ایک عربی داستان ہے۔اس کے کرداروں کو تاريخی طور پر ثابت مانا جاتا ھے۔لیلیٰ مجنوں دو حقیقی عاشق تھے ۔صدیوں تک اس میں بہت کچھ افسانہ طرازی کی گئی۔عربی سے فارسی میں اس کو پہلے پہل "رودکی" نے منتقل کیا۔اس کے بعد نظامی گنجوی نے اس کو فارسی میں لکھا۔اب تک ہزار سے زاہد مرتبہ اس داستان کو مختلف زبانوں میں، مختلف لوگ نثر و نظم میں لکھ چکے ہیں۔سب سے زیادہ مقبولیت و اہمیت نظامی گنجوی کیمجنوں کا اصل نام ، قیس ابن الملوح ابن مزاحم ہے۔مجنوں لغوی طور پر پاگل، دیوانے اور عاشق کو کہتے ہیں۔لیلیٰ کا نام لیلیٰ بنت مہدی ابن سعد بیان کیا جاتا ہے۔عربی و عبرانی میں لیلیٰ یا لیلہ رات کے لیے بولا جاتا ہے۔عربی میں لیلیٰ مجنوں کی بجائے مجنون لیلیٰ بولا جاتا ہے۔ترکی میں ایک اسم صفت لیلیٰ کی طرح سے مراد محبت کی وجہ سے پاگل، جنونی کے لیے بولا جاتا ہے۔محققین نے لیلیٰ کے عربی لیلیٰ )رات( سے اس کے معنی سانولی رنگت بھی لیا ہے۔کئی مصنفین نے اپنے قصے میں لیلیٰ کو سانولی صورت والی بنا کر پیش کیا ہے۔ مشہور ہے کہ لیلیٰ کالی یعنی سیاہ رنگت والی تھی۔لیکن اگر لیلیٰ کو عربی النسل بیان کیا جاتا ہے تو اس طرح لیلیٰ کا کالا ہونا ایک خلاف واقعہ بات ہوگی۔بچپن میں قیس اور لیلیٰ دونوں اپنے قبیلے کی بکریاں چراتے تھے۔وہ ساتھ بیٹھتے اور آپس میں باتیں کرتے۔ اس دوران انھیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی نظامی گنجوی کے قصے لیلیٰ مجنوں کے مطابق لیلیٰ اور مجنوں بچپن میں ایک ہی مدرسے میں پڑھنےجاتے تھے،ان میں باہمی الفت پیدا ہوئی۔ مجنوں کی توجہ تعلیم کی بجائے لیلیٰ کی طرف رہتی، جس پر استاد سے اسے سزا ملتی،مگر استاد کی چھڑی مجنوں کے ہاتھوں پر پڑتی اور درد لیلیٰ کو ہوتا۔استاد نے یہ بات لیلیٰ و مجنوں کے گھر والوں کو بتائی، جس پرلیلیٰ کے مدرسے جانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گی۔ایک دن پھر مجنوں کی نظر لیلیٰ پر پڑ گی، اور بچن کا عشق تازہ ہو گيا۔ مجنوں نے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا، مگر لیلیٰ کے باپ نے انکار کردیا۔لیلیٰ کا بھائی تبریزمجنوں کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ مکر مجنوں اس کو قتل کر دیتا ہے۔ جس پر مجنوں کوسرے عام محبت کا اظہارکرنے اورلیلی کے بھائی کو مارنے پر سنگسار کرنے کی سزا سنائی گئی۔کچھ کہانیوں میں تبریز کے قتل کا قصہ نہیں ہے بلکہ، رشتہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد لیلیٰ کی شادی کسی دوسرے کے ساتھ کر دی جاتی ہے۔ جس پر قیس، پاگل سا ہوجاتا ہے۔جامعہ ازہر شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم المصری لکھتے ہیں کہ لیلیٰ مجنوں کی شدید عشق و محبت کی کہانی کوئی فرضی داستان نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر طحہٰ حسین نے خیال ظاہر کیا ہے۔ یہ پہلی صدی ہجری کا سچا واقعہ ہے جو عرب کے نجد کے علاقے میں رونما ہوا اور لازوال بن گیا۔مجنوں ایک مالدار نجدی قبیلے بنو عامر کے سردار کا بیٹا تھا۔ وہایک گوراچٹا، خوب صورت اور خوش گفتار نوجوان تھا۔ شاعر تھاقیس نے لیلی کے اوپر شاعری کرتے ھوے ایک جگہ لکھا ھے۔ترجمہ۔’’وہ ایک چاند ہے جو ایک سرد رات میں آسمان کے وسط میں چمک رہا ہے، وہ نہایت حسین ہے۔ اس کی آنکھیں اس قدر سیاہ ہیں کہ انھیں سرمے کی ضرورت نہیں۔قیس کے والدیں اپنے خاندان کے ساتھ لیلیٰ کے والد کے پاس گئےاور لیلیٰ کا رشتہ مانگا۔ لیلیٰ کے ماں باپ کو داغ بدنامی گوارا نہ ہوا اور انھوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔اس دوران قبیلہ ثقیف کے ایک نوجوان نے بھی جس کا نام ورد تھا، لیلیٰ کو شادی کا پیغام دیا۔ لیلیٰ کے والدین نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔قیس اس قدر مضطرب ھوا کہ وہ بیمار ہو گیا۔ اس کے والدین نے چاہا کہ وہ اپنے قبیلے کی کسی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کر لے مگر اب قیس لیلیٰ کی محبت میں اتنی دور نگل گیا تھا کہ واپسی ممکن نہ تھی۔رفتہ رفتہ قیس کی حالت ایسی ہو گئی کہ اسے اپنے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔لوگوں نے قیس کے باپ کو مشورہ دیا کہ وہ اسے مکہ لے جائےاور بیت اللہ کی پناہ میں دعا مانگے۔قیس کا باپ الملوح اسے لے کر مکہ گیا اور حرم شریف میں اس سے کہا کہ غلاف کعبہ سے لپٹ کر لیلیٰ اور اس کی محبت سے نجات کی دعا مانگے۔اس کے جواب میں جب قیس نے یہ دعا مانگی کہاے اللہ! مجھے لیلیٰ اور اس کی قربت عطا فرما تو الملوح قیس کو واپس لے آئے۔راستے میں اس نے ایک جگہ پہاڑی پر اپنے آپ کو گرانے کی بھی کوشش کی مگر لوگوں نے پکڑ لیا۔اپنے قبیلے میں واپس پہنچ کر قیس کا باپ ایک بار پھر لیلیٰ کے باپ کے پاس گیا تا کہ اسے لیلیٰ کی اپنے بیٹے سے شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے،مگر پھر انکار ھو گیا۔لیلیٰ کی شادی اس دوسرے لڑکے سے کر دی گئی جس کا پیام آیا تھا۔ لیلیٰ خود بھی قیس کی محبت میں گرفتار تھی مگر خاندان کی نیک نامی اور والدین کی اطاعت سے مجبور تھی۔قیس کو یہ معلوم ہوا کہ لیلیٰ کی شادی ہو گئی ہے تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ وہ اپنے وجود کو بھول گیا۔گوشہ نشین ہو گیا اور پھر ایک دن صحرا میں نکل گیا۔لیلیٰ کو آوازیں دیتا، پہاڑوں، درختوں، جنگلی جانوروں سے پوچھتا لیلیٰ کہاں ہے۔اسی حال میں ایک دن اس کی نظر ایک ہرنی پر پڑی۔ وہ اس کے پیچھے ہو لیا اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔اس کے گھر والے صحرا میں اسے ڈھونڈتے رہے۔چوتھے دن وہ انھیں ایک پتھریلی وادی میں ریت پر مردہ پڑا ملا.روایات کے مطابق لیلیٰ بھی شاعرہ تھی اور یہی چیز ہے جس نے اس محبت بھرے قصے کو ایک المیہ بنا دیا جس کے لیے دل اور آنکھیں روتے ھیں۔یہ ممکن تھا کہ یہ محبت شادی کے ذریعے ان کے اجتماع پر منتجہوتی اور خوشیوں بھری زندگی انھیں حاصل ہوتی۔مگر تقدیر کے آگے تدبیر کا کہاں بس چلتا ھے۔انسانی عشق کا یہ قصہ عشق الٰہی تک پہنچانے کا ذریعہ بن گیا۔امیر خسرو نے اس واقعہ کہ 1299ع میں کتابی شکل دی اور جامی نے 1484ع میں لیلی مجنوں پر 3860 صفحوں کی کتاب لکھی۔شیرازی جیسے بڑے فارسی شاعر نے اس قصے کو 1520ع میں لکھا۔بلھے شاہؒ فرماتے ھیں۔
کیتا سوال میاں مجنوں نوں تیری لیلا رنگ دی کالی اے
دتا جواب میاں مجنوں نےتیری انکھ نہ ویکھن والی اے
قرآن پاک دے ورق چٹےاتے لکھی سیاہی کالی اے
چھڈ وے بلھیا دل دے چھڈیاتے کی گوری تے کی کالی اے
خلاصہ ترجمہ۔ کسی نے مجنوں سے کہا تیری لیلی تو رنگ کی کالی ھے۔ مجنوں نے جواب دیا۔ تیری آنکھ دیکھنے والی نھیں۔ قران پاک کے سفید کاغذوں پہ کالی سیاھی سے لکھا ھوا ھے۔دل کے سودے میں کالی اور گوری کوی معنی نھیں رکھتے-
30/07/2024
1972ء میں سامراء شہر میں فون کے کارکن تاریں بچھانے کے لئے کھدائی کر رہے تھے کہ اچانک انہیں رخام کی ایک مربع شکل کی تختی ملی، جو نکالنے کے دوران کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ اسے بغداد کے قومی عجائب گھر لایا گیا، جہاں اس کی لیبارٹری میں مرمت کی گئی۔ مرمت کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ ایک شمسی گھڑی ہے۔
یہ تختی تقریباً مربع شکل کی ہے، جس کی لمبائی 80 سینٹی میٹر اور چوڑائی 76 سینٹی میٹر ہے۔ تختی کے اوپری حصے میں "صنعة علی بن عیسیٰ" لکھا ہوا ہے۔ اس گھڑی کی تقسیمات میں دن کے بارہ گھنٹے شامل ہیں۔ بائیں کنارے سے صبح کا پہلا گھنٹہ شروع ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت چھٹے گھنٹے پر پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔ پھر زوال کا آغاز ہوتا ہے اور سایہ بتدریج بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ عصر کا وقت آجاتا ہے۔ جب سورج غروب ہوتا ہے تو دن کا اختتام ہوتا ہے، اور اس وقت گھڑی پر بارہ بجتے ہیں یعنی مغرب کا وقت۔
آج بھی یہ طریقہ نماز کے اوقات مقرر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سامراء کی اس گھڑی کی تاریخ کا اندازہ اس کے صانع علی بن عیسیٰ سے ہوتا ہے، جو نویں صدی عیسوی کے وسط میں سامراء میں رہتا تھا۔ لہٰذا، یہ اپنی نوعیت کی قدیم ترین گھڑی ہے جو اسلامی دور کی ہے اور سامراء میں دریافت ہوئی ہے جس پر صانع کا نام بھی موجود ہے۔ اس لئے یہ اسلامی دور کی مشرقی تہذیب کی ایک شان دار علامت سمجھی جاتی ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Satellite Town , Main City
Sargodha
40100