Apni_Awaz
یہ پیج پنجابی زبان، کلچر، تفریع کے لیے بنایا گیا ہے، دھ�
زندگی ہمیشہ عاجزی کے ساتھ گزارو عزت اور ذلت اللہ تعالی کی ذات دینے والی ہے ۔ جو آپ کا مقام ہے وہ آپ کو ملے گا چاہے لوگ آپ کے راستوں پر پتھر اور کانٹے کیوں نہ ڈال دیں ۔آپ منزل تک ضرور پہنچیں گے
08/09/2025
تخمینہ،،،،
کوئی آفت کوئی مُصیبت کوئی قہر نازل ہو فرد واحد پر ، خاندان، قبیلہ قوم یا مُلک پر ہم نقصان کا تخمینہ لگاتے، ایک معیار ہوتا جیسے کتنی مالیت کا نقصان، سامان کیا کیا گیا، پھر اُسکے تدارک کا دیکھا جاتا پھر دوبارہ نہ ہونے کے بارے غور و فِکر سر جوڑے جاتے مُمالک اِن کاموں کے لیئے “تھنک ٹینک “ کی ایک اصطلاح ، وہ حل بتاتے ایک سوچ ہوتی اُس پر عمل کا طریقہ کار وضع کرتے ، ایک عام بات کرتا امریکہ میں یا ترقی یافتہ ممالک میں ، بڑی ہائی وے کے ساتھ ایک دیوار بنائی جاتی متصل آبادیاں روشنی سے ٹائروں کی چرچراہٹ سے لوگوں کے شب وروز مُتاثر نہ ہوں،
پاکستان اور انڈیا شدید سیلاب اور بارشوں کی زد میں بارشیں بھی زیادہ ہوئیں ، قلمکار، ماہرین موسم کی تبدیلی یا ایک اختراع، Climate change استعمال کرتے cloud brust بھی، مگر کافی عرصہ سے شور کِیا کیا گیا سوال یہ، جواب کا نہ کسی کے پاس وقت وقت کیا ہے نھیں دینا کیا۔
یہاں بھی آتے آفات قہر ٹوٹتے ابھی چند مہینہ پہلے کیلیفورنیا آگ کی لپٹ میں تھا ، حکومت نے ریاست نے اداروں نے کیا انتظام کیا ہو گا، کسی کو یاد نھیں، اتنی آفت میں چند لوگ بھی جان کی بازی ہار گئے۔
مگر ہم نے تو لوگوں کو مٹی کے بندھ کی جگہ انسانوں کے پشتے باندھے، ڈھور ڈنگروں کے، مکانوں کے اور جیسے جان بوجھ کر دریا بُرد کیا جاتا ہاتھ پاؤں باندھ کر بہایا جاتا ساتھ وزن باندھ کر، دیکھا جاتا تسلی کی جاتی ڈوب جائے لاش تیرنے نہ پائے۔
اب تو لکھتے بھی دل بھر آتا، غلطی سے لکھا گیا بھر آتا گھبراتا کہیں ناگوار گزرے کسی کو ہم دھرے جائیں، تاوان دیں کسی کا دکھ لکھنے پر، بیان بازی تک تو ٹھیک کہیں دل کی بات سوچ پر کسی دیوانی مقدمہ کا حصہ بنیں پشتیں بھگتیں،
میں یہاں خُوش، چاند راتیں حسیں شامیں کھلتے پھولوں، میں، اپنی مرضی کے موسم میں لکھنے میں، پسندیدہ لوگوں سے باتیں، بارش قوس قزح بنتی ، درختوں پر گرتی بوندیں دیکھوں، ملنگ بنا گھوموں، مگر لوگ آپ کو سوچ کو تبدیل کرتے، درختوں، پھولوں بادل بارش کے ساتھ انسانوں زندہ انسانوں سے محبت کرنا سکھاتے میں سیکھنے پر آمادگی کے ساتھ یہ اسرار و رموز سیکھ رہا، ابھی رنگوں کے نام باتیں سیکھنی اور بہت کچھ۔
سانوں سپ سمے دا ڈنگدا سانوں پل پل چڑھدا زہر
ساڈے اندر بیلے خوف دے ساڈے بیلے بنڑ گئے شہر
اساں شوہ غماں وچ ڈب گئے ساڈی رڑ گئ نو پتوار
ساڈے بولنڑ تے پابندیاں ساڈے سر لٹکے تلوار
اساں نیناں دے کھوہ گیڑ کے کیتی وتر دل دی پاؤں
اے بنجر رئ نمانڑی سانوں سجنڑ تیری سوہنہ
اساں اتوں شانت جاپدے ساڈے اندر لگی جنگ
سانوں چپ چپیتا ویکھ کے پئے آکھنڑ لوک ملنگ
تخمینہ مالی نھی صرف، سب بہا لے گیا نقصان کسی معیار سے ماپنے میں نھیں، بیان کرنے لکھنے میں نھیں، جان تو ایک کا دکھ برداشت نھیں یہاں اجاڑے پڑے بسنے بسانے میں وقت لگے گا اگر موسمیاتی تبدیلیاں زیادہ آئیں تو دہائیاں لگیں۔
چوھدری فراز گوجر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Sargodha District
Sargodha
40100