BBC SWABI

BBC SWABI

Share

please follow the page and share with your dear friends.. thank you

24/05/2026

سسرال کی خدمت
افتخاراحمد خان

قرآن جب دین کو جھٹلانے والوں کی علامت بیان کرتا ہے تو وہ صرف عقیدے کی نفی نہیں کرتا بلکہ اخلاقی بگاڑ کو بھی دین کی تکذیب قرار دیتا ہے۔ سورۃ الماعون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ
سورة الماعون (107:2-3)

ترجمہ:
پس یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے،
اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔

یہاں واضح کیا گیا کہ جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا وہ دراصل دین کے حقیقی شعور سے خالی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دین یتیم اور مسکین کی خدمت کو ایمان کا حصہ بناتا ہے تو پھر انسانی رشتوں کے اندر موجود ذمہ داریوں کا درجہ کیا ہے؟ خاص طور پر وہ رشتے جو نکاح کے ذریعے ایک نئی خاندانی اکائی تشکیل دیتے ہیں، جیسے سسرال۔

قرآن کریم نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو ایمان کا بنیادی اصول قرار دیا ہے:

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
سورة الإسراء (17:23)

ترجمہ:
اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔

اسی طرح حضرت لقمان کی نصیحت میں بھی والدین کے حق کو بڑی تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ ٱشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ
سورة لقمان (31:14)

ترجمہ:
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا، کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے:
قرآن نے بیوی یا شوہر میں سے کسی ایک پر سسرال کی خدمت کا کوئی الگ شرعی حکم اس انداز میں نہیں دیا جس طرح والدین کے حقوق واضح کیے گئے ہیں، لیکن اسلام کا عمومی مزاج احسان، عدل اور صلہ رحمی پر قائم ہے۔

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ
سورة النساء (4:36)

ترجمہ:
اور اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ احسان کرو، اور قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی ہمسایوں، اجنبی ہمسایوں اور پاس بیٹھنے والے ساتھی کے ساتھ بھی۔

یہاں سوال یہ ہے کہ شوہر کے والدین کی خدمت مندرجہ بالا کسی ایک کٹیگری میں نہیں آتے کیا؟ اس سوال کا جواب comment میں ضرور دیجیے گا

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تعلقات کی بنیاد قانونی جبر نہیں بلکہ اخلاقی احسان ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سسرال کے ساتھ رویہ ایک اخلاقی امتحان بن جاتا ہے۔ سسرال کو کم تر سمجھنا یا ان کی خدمت کو غیر ضروری بوجھ سمجھنا قرآن کے اس مزاج کے خلاف ہے جو ہر قریبی رشتے میں عدل اور حسن سلوک کو لازم قرار دیتا ہے۔

اسی تناظر میں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ دین کسی ایک فریق کو برتر اور دوسرے کو کم تر بنا کر تعلقات قائم نہیں کرتا بلکہ ہر رشتہ اپنے مقام پر ذمہ داری رکھتا ہے۔ جس طرح یتیم اور مسکین کی خدمت ایمان کی علامت ہے، اسی طرح اپنے نئے خاندانی رشتوں میں عزت، تعاون اور خیر خواہی بھی اخلاقی ایمان کا حصہ ہے۔

اصل مسئلہ حکم کا نہیں بلکہ نیت اور رویے کا ہے۔ اگر خدمت کو بوجھ سمجھ کر کیا جائے تو وہ اخلاقی قدر کھو دیتی ہے، اور اگر اسی کو احسان اور رشتہ داری کی توسیع سمجھ کر انجام دیا جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔

Want your business to be the top-listed Computer & Electronics Service in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


SWABI
Swabi