Professor History
حقائق سے بھر پور تاریخی واقعات۔
15/05/2026
رولا دینے والا واقعہ😢😢
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔
لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ کلبی پر پڑی۔ آپؐ ﷺنے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن
نوجوان ہے۔
آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔
پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ کلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛
اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ کلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم❤️❤️ ، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ کلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ کلبی فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ،ﷺ میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔
دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟
میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،❤️ میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔
یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ کلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛
اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔
حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ کلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں
۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم❤️ دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛
بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔
آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔
بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️ میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛
اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔
یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے
اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔
اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم❤️ ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں
واللہ اعلم بالصواب. کوئی غلطی ہوئی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین.
کتاب" تنبیہات اسلام" سلسلہ نمبر 272 میں واقع ہے، ؟
11/05/2026
روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی کل عمر 960 سال یا 1000 سال تھی۔
وفات سے پہلے آپؑ نے اپنے بیٹے حضرت شیثؑ کو بلایا اور انہیں تمام ضروری علوم، اوقاتِ عبادت اور آنے والے طوفانِ نوحؑ کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا۔
آپؑ نے حضرت شیثؑ کو نصیحت کی تھی کہ وہ اپنی نسل کو اللہ کی اطاعت پر قائم رکھیں۔
جمعہ کا دن:
حضرت آدمؑ کی پیدائش بھی جمعہ کو ہوئی، زمین پر نزول بھی جمعہ کو ہوا اور آپؑ کی وفات بھی جمعہ کے دن ہی ہوئی۔
تاریخی روایات (جیسے تاریخِ طبری اور البدایہ والنہایہ) کے مطابق، حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی میں ان کی نسل بہت تیزی سے پھیلی۔
مفسرین اور مورخین بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی وفات تک ان کی اولاد، پوتوں، پڑپوتوں اور ان کی نسل کی
مجموعی تعداد 40 ہزار (کچھ روایات میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زائد) تک پہنچ چکی تھی۔
حضرت حواؑ کے ہر بطن سے جڑواں بچے (ایک لڑکا اور ایک لڑکی) پیدا ہوتے تھے۔
روایات کے مطابق حضرت حواؑ کے 20 بطن (40 بچے) یا بعض روایات کے مطابق 120 بطن ہوئے تھے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے وقت ان کے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کا دورِ نبوت شروع ہو چکا تھا بلکہ وہ حضرت آدمؑ کے جانشین مقرر ہو چکے تھے۔
حضرت آدمؑ نے اپنی وفات سے قبل حضرت شیثؑ کو اپنا وصی اور جانشین مقرر کیا تھا۔ انہیں اللہ کی طرف سے 50 صحیفے عطا کیے گئے تھے۔
حضرت شیثؑ نے اپنے والد کی وفات کے بعد اللہ کے دین کی تبلیغ جاری رکھی اور لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اور شریعتِ آدمؑ کی تعلیم دی۔
حضرت ادریسؑ، حضرت آدمؑ کی وفات کے کافی عرصہ بعد تشریف لائے تھے،
تاہم حضرت آدمؑ نے اپنی زندگی میں اپنی نسل میں آنے والے بعض انبیاء کا ذکر غیب کی خبروں کے طور پر سنا رکھا تھا۔
آپؑ کی قبرِ مبارک کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ کے مطابق آپؑ مکہ میں جبلِ ابو قبیس کے پاس دفن ہیں،
جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ طوفانِ نوحؑ کے وقت حضرت نوحؑ نے آپؑ کا تابوت اپنی کشتی میں رکھ لیا تھا
اور بعد میں اسے بیت المقدس یا خلیل (فلسطین) میں دفن کیا گیا۔
حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد ان کی اولاد دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی.
شیثؑ کی اولاد:
یہ لوگ پہاڑوں پر رہتے تھے، پرہیزگار تھے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے۔
قابیل کی اولاد:
یہ لوگ میدانوں میں رہتے تھے اور ان میں برائیاں اور گناہ پھیلنے لگے تھے۔
حضرت شیثؑ نے برسوں تک ان دونوں گروہوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کی کوشش کی،
لیکن قابیل کی اولاد آہستہ آہستہ شرک اور فساد کی طرف مائل ہوگئی۔
حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد حضرت شیثؑ پر اللہ نے 50 صحیفے نازل فرمائے۔
آپؑ نے ہی سب سے پہلے کپڑا بننا اور تجارت کرنا سکھایا۔
آپؑ کی شریعت میں نکاح کے قوانین کو مزید واضح کیا گیا
تاکہ بھائی بہن کے درمیان نکاح (جو آغاز میں مجبوری کی بنا پر جائز تھا) کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے.
10/05/2026
(حقیقت کی جستجو؛ ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)
ایڈم سمتھ بولا! Adam Smith
دنیا کا سسٹم مسابقت/compitition پر قائم ہے۔ جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود خوشحال ہو جائے گا۔ یہی سرمایہ داری نظام capitalism کا حسن ہے۔ آزاد منڈیindipendent trade میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
کارل مارکس نے کہا! Karl marks
مگر یہ کیسا حسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف machine کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ تمہاری آزاد منڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیجGap between rich and poor بڑھتی ہی جاتی ہے۔ سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصالexploitation کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں۔
ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):Adam smith
دیکھو، یہ تگ و دوHardworking ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ اسی مسابقت میں ترقی کا راز Secret of success پوشیدہ ہے۔
کارل مارکس (تلخ لہجے میں):
یہی تو تمہارا دھوکہFraud ہے! محنت کشوں کو ان کی محنت کا پورا صلہreward کبھی نہیں ملتا۔ سرمایہ دار ان کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں۔ تمہاری مسابقت rivalry دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکزcentured ہو جاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے۔ یہی تو ظلم ہے، اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلابrevolution فرض ہو جاتا ہے۔
ایڈم سمتھ (سرگرداں ہو کر):
رُکو بھائی! کون سا دھوکہ، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت،class discrimination یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آ رہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے۔ پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے۔ وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔Patiencs pays off
کارل مارکس (غصہ ہو کر):
انہیں تو آپ رہنے ہی دیجیے۔ ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے۔ یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں۔ یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔Reject
(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں)
سمتھ صاحب! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا، جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے۔ اور مارکس...! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بخوبی پہچانا، کمال کر دیا۔ تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا۔ لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظرانداز کیا، بہت ہی بُرا کیا۔ انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے۔ جسم کی طرح روحSoul کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب کو رد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے۔
کارل مارکس (حیران ہو کر):
عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا؟ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟
شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):
یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت (Default Version) میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصافJustice and fairness قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزاد منڈی کو قبول کرتا ہے، اور نہ ہی تمہارے انقلاب کی بے روح مادیتMaterialism کو۔ یہ تو انسان کے جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اٹھاتا ہے۔ دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے۔
ایڈم سمتھ (مُخِل ہوتے ہوئے):
شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہےLife is a war۔ یہاں طاقتور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت ہے،Power and respect is with money شہرت ہے، اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے۔ نیز سرمایہ ہی اصلReality ہے۔ محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیونکہ اس کے پاس Bargaining Power نہیں ہوتی۔
شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں): سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں، محبت نظر آئے گی۔ آپ جان پائیں گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہےUnfair distribution۔ طاقتور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقتCompitition تو تب ہوگی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ دولت کمانے میں حرج نہیں .... لیکن اس کے لیے اساسbase foundation محنت ہونی چاہیے۔ محنت سرمایہ کا معاون نہیں، سرمایہ محنت کا معاون ہے۔ جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے۔ یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب..!!
کارل مارکس (سوچ میں پڑ کر): یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹلزم کے ردعمل میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہ کیا ہوتا ... میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی!
شاہ ولی اللہ (اطمینان سے): یہی مکالمے کا حسن ہے! سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور
مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!
✍️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the university
Telephone
Website
Address
Swabi
2300