Beyond Book

Beyond Book

Share

Discovered Nature Health And Beauty

12/10/2025
13/01/2025

زینو کا فلسفہ: فطرت کے ساتھ ہم آہنگی
آپ نے ایک بہت اہم فلسفیانہ قول کا ذکر کیا ہے جو کہ سائپرس کے شہر Citium سے تعلق رکھنے والے فلسفی زینو کا ہے۔
زینو کا یہ بیان دراصل اس کے اس فلسفے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں وہ فطرت کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ساتھ انسان کو ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ان کے خیال میں انسان کی خوشی اور سکون اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ فطرت کے قوانین اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔
اس قول کی تفصیل:
* فطرت ایک حقیقت: زینو کے مطابق فطرت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے لیکن ہم اس کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔
* انسانی فطرت: زینو انسان کی فطرت کو بھی فطرت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں انسان کی فطرت میں بھی وہی خواہشات اور رجحانات پائے جاتے ہیں جو فطرت میں پائے جاتے ہیں۔
* ہم آہنگی: زینو کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی فطری خواہشات کو دباتے ہوئے مصنوعی اور غیر فطری زندگی گزارنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
* خوشحالی: زینو کے مطابق جب انسان فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے تو وہ خوشحال اور مطمئن زندگی گزارتا ہے۔
زینو کے اس فلسفے کی اہمیت:
* موجودہ دور: آج کے دور میں جب انسان فطرت سے دور ہوتا جا رہا ہے، زینو کا یہ فلسفہ ہماری توجہ فطرت کی طرف مبذول کراتا ہے۔
* ماحولیاتی مسائل: ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے زینو کا فلسفہ ایک اہم رہنما اصول ثابت ہو سکتا ہے۔
* ذاتی خوشی: ذاتی خوشی اور سکون کے حصول کے لیے بھی زینو کا فلسفہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
خلاصہ:
زینو کا فلسفہ انسان کو فطرت کے ساتھ گہرا تعلق جوڑنے کا درس دیتا ہے۔ ان کے مطابق انسان کی خوشی اور سکون اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ فطرت کے قوانین کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔

11/12/2024

پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں

پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے
وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست

پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر گیا
خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﮔﯿﺎ

پھر یوں ہوا کہ لب سے ہنسی چھین لی گئی
پھر یوں ہوا کہ ہنسنے کی عادت نہیں رہی

پهر یوں ہوا کہ، زخم نے جاگیر بنا لی
پهر یوں ہوا کہ، درد مجھے راس آ گیا

پھر یوں ہوا کہ، وقت کے تیور بدل گئے
پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے

پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے
پھر یوں ہوا کہ شہر بیابان ہوگئے

پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم
اتنا چلے کہ راستے حیران ہوگئے.

Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Vehari?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Vehari