Kashif Rana
کاشف رانا کی شاعری
08/04/2023
08-04-2023
خواہشِ نوعِ بشر ہے یہ کہ چاہے جائیں
جی میں آتا ہے کبھی ہم بھی سراہے جائیں
بعد محنت کے ملے پھل کی خوشی ہو جیسے
پہلے وقتوں کے اناجوں کی طرح گاہے جائیں
ہم کہ دن کارِ زمانہ میں ہی کاٹیں ہیں مگر
رات کو دیر تلک بستر پہ کراہے جائیں
اب بھی کچھ لوگ سہارا ہیں دکھی دنیا کا
ایسے لوگوں کا ہی حق ہے کہ یہ چاہے جائیں
عشق اک بار ہی ہوتا ہے سو کر لئے ہم
دوسری بار اسی راہ بھلا کاہے جائیں
ایک دوجے کی محبت کا بھرم رکھتے ہیں
کیوں نہ خوش وضع روابط کو نباہے جائیں
دیکھ کر سہم سے جاتے ہیں ابھی بھی کاشف
چلتے چلتے جو کسی جا سے دوراہے جائیں
کاشف رانا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Al Doha Al Jadeeda