Words Bubble
this page is for sharing funny posts
15/04/2026
ان لائن تجوید کورس للبنين والبنات
01/09/2025
یہ دکان سال 2006 میں عمان کے ایک انڈسٹریل ایریا میں بنی۔ جس وقت یہاں پورے روڑ پر اس کام کی صرف چار دکانیں تھیں۔ اس وقت کہا جاتا تھا ایکسل ریپئر کی دکان کسی ٹوئے (کھڈے) میں بھی کھل جائے تو کسٹمر آئے گا۔ سال 2009 تک اس دکان پر اتنا گاہک ہو چکا تھا کہ چار پانچ گاڑیاں انتظار میں کھڑی ہوتی تھیں۔ لوگ چابیاں دے کر کام بتا کر گھر چلے جاتے تھے کہ جب کام ہوگیا تو بتانا۔ اور مزدوری بھی منہ مانگی یعنی اتنی کہ اچھا اور معیاری کام کرنے کو دل کرے۔ سال 2012 تک یعنی چھ سالوں میں اسی کام کی دکانی کی تعداد ڈبل ہوگئی۔ اور کام سب میں بٹنے لگا تو آدھا رہ گیا۔ اگلے تین چار سال میں ریٹس بھی بہت کم ہوگئے اور دکانیں بڑھنے سے گاہک بھی کم ہوگئے۔
سال 2016 میں استاد نے دکان بیچنا چاہی تو شاگرد نے خرید لی۔ استاد واپس پاکستان چلا گیا۔ اسکے پاس ان دس سالوں میں کمایا ہوا پچاس ساٹھ ہزار عمانی ریال موجود تھا۔ آج کے لگ بھگ چار کروڑ پاکستانی روپے۔
شاگرد آج بھی اس دکان کو چلا رہا ہے۔ استاد کے پاس اسکی تنخواہ دو سو ریال تھی۔ جب دکاندار بنا تو سارے اخراجات نکال کر چار پانچ سو ریال بچنے لگا۔ جو یقینا بہت اچھی آمدن تھی۔ کہ اپنے کام کا وہ خود مالک بن گیا۔ شاگرد کو دکان خریدے نو سال ہوچکے ہیں۔ آمدن آج بھی وہی ہے۔ نہ بڑھی نہ کم ہوئی۔ چار پانچ سو ریال اخراجات کرنے کے بعد صافی بچ جاتا ہے۔
استاد کئی کاموں کے تجربے کرکے اپنے سارے پیسے خرچ کرکے پھر اسی روڑ پر آکر اپنی دکان پچھلے سال بنا چکا ہے۔ اور جس بندے کی ماہانہ آمدن دو ہزار ریال تک تھی۔ آج اپنے شاگرد کے برابر چار پانچ سو ریال میں خود سارا کام اپنے ہاتھوں سے کرکے کما رہا ہے۔ دونوں ہی ایک کاریگر رکھنا افورڈ نہیں کر سکتے کہ اتنا کام ہی نہیں ہے۔ جب چھٹی جاتے ہیں دکان بند کرکے جاتے ہیں۔
جس شاگرد کی بات کر رہا ہوں۔ وہ میرا دوست بن گیا ہے۔ کل شام ہم بیٹھے تھے تو اس نے ساری کہانی سنائی۔ اور پوچھا کہ یار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دس پندرہ سال بعد ہم پاکستانیوں کے کاروبار بتدریج کم ہوتے ہوئے ختم ہوجاتے ہیں۔ پاکستان ہو یا گلف ممالک ہماری گروتھ ہونا تو دور گراوٹ کی طرف جانا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیا وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں کام بدل لینا چاہئیے، لوکیشن بدل لینی چاہئیے، یا کیا ایسا کرنا چاہئیے کہ ہمیں ایسا نہ لگے جیسا کام پچھلے سالوں میں تھا اب ویسا کام نہیں رہا۔ ظاہر ہے ہر کام میں وقت کے ساتھ مقابلہ بڑھ جاتا ہے۔ اس مقابلے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں کیا ایسا کرنا چاہئیے کہ وقت کی مار ہمیں مات نہ دے سکے۔ جو وہ کر سکتا تھا اپنے کام سے متعلقہ پارٹس بھی رکھے مگر گاہک کی مرضی ہو تو ہی وہاں سے سامان خریدتا ہے۔ ورنہ اپنی مرضی کی دکان سے سامان لاکر کاریگر کو بس مزدوری دے کر کام کرواتا ہے۔ یعنی پارٹس رکھنا نہ رکھنا کوئی خاص فرق نہیں ڈال سکا۔
اس کے سوالوں کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا۔ یہاں لکھا ہے۔ شاید اس کا کوئی جواب مل سکے۔ اور نہ صرف وہ بلکہ کئی اور دوستوں کو بھی کوئی راہ مل سکے۔ جنکے کام اب نہ صرف گروتھ میں رک چکے ہیں بلکہ مسلسل ڈاؤن ہو رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور اس کا حل کیا ہے؟
پوسٹ کو شیئر کریں
اچھی اچھی پوسٹ کیلئے پیج کو لائیک اور فالو کریں شکریہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Doha