AgHa's Views
addictAli(as)
LoveAhl al-Bayt
spiritual lesson
quotesGuru
06/09/2023
😪
🖤🏴
زیارت ناحیہ
" میرا سلام ہو اس شہید پر جس کی داہنی طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر بائیں طرف آ گئی تھیں، اور بائیں طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر داہنی طرف آ گئی تھیں
ﺳﻼﻡ ﺍُﻥ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻧﻔﻮﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﯿﺎ
ﮔﯿﺎ ،
مسافرں میں سب سے زیادہ بے کس ؤ مظلوم مسافر پے سلام
ان گریبانوں پے سلام جو خون سے بھرے ہوے تھے
سلام اس مظلوم امام پر جس کے سر کو پشت گردن سے کاٹا گیا
اس ریش اقدس پرسلام جو خون سے سرخ تھی
اس روخسار پر سلام جو خاک الودہ تھا
ﺳﻼﻡ ﺍﺭﺽِ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮧ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﻥ ﭘﺮ ،
ﺳﻼﻡ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮﺩﯾﮱ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﭘﺮ ،
ﺳﻼﻡ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎﮰ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ،
" میرا سلام ہو اس مظلوم حسین علیہ السلام پرکہ جس پرآسمان کے فرشتےبھی رو دیئے".۔۔۔😓
#محرم1445 #اغاجان #کربلا
میں جب بھی تکفیریوں کو محرم الحرام اور یوم علی علیہ السلام کے جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کے مطالبات کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے ذاکر اہلبیت علیہ السّلام ناصر تلہاڑا کی مجلس یاد آ جاتی ہے۔
جو احباب پنجابی سمجھتے ہیں اور مضبوط دلائل کے متلاشی ہیں وہ ناصر تلہاڑا کی مجالس ضرور سنیں گو کہ ان کی ٹھیٹ پنجابی اور تیز بولنے کی عادت کی وجہ سے مجھے بھی مشکل پیش آتی ہے مگر وہ ایک زبردست معلومات فراہم کرتے ہیں۔
شعبے کے لحاظ سے استاد تھے اور تحقیق کے بعد شیعہ عقائد کو اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں ایک نوجوان قتل ہو گیا۔
مقتول کے ورثاء غریب اور کمزور تھے جبکہ قاتل امیر اور بااثر تھے لہذا قتل کیس سے باعزت بری ہو گئے۔
مقتول نوجوان کی ماں روزانہ گھر کے باہر بیٹھ جاتی اور سارا دن اپنے بیٹے کو یاد کر کے گریہ کرتی رہتی تھی۔
قاتلین کی رہائش بھی اسی گلی میں تھی۔
ایک دن قاتلین نے اہل علاقہ کو اکٹھا کیا اور مطالبہ کیا کہ اس بڑھیا کو کہا جائے کہ یہ باہر مت بیٹھا کرے بلکہ گھر میں جو کرنا ہے کرے،ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
لوگوں نے انہیں کہا کہ وہ تو بس اپنے بیٹے کو یاد کر کے روتی رہتی ہے،کسی کو کچھ نہیں کہتی پھر ہم ایسا کیوں کریں۔
وہ بضد رہے کہ بڑھیا گھر میں جو کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن گھر سے باہر مت بیٹھے۔
سب نے انہیں سمجھایا مگر ان کی ایک ہی ضد تھی۔
ایک بزرگ نے کہا کہ ایک تو تم لوگوں نے اس کے جوان بیٹے کو بیگناہ قتل کر دیا اور اس پر بھی تمھیں چین نہیں مل رہا اور اس کے رونے پر بھی پابندی لگانا چاہتے ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم رونے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ چار دیواری کے اندر بیٹھ کر روئے۔
اس بزرگ نے پوچھا کہ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے جبکہ وہ کسی کو برا بھلا نہیں کہتی۔
جواب دیا کہ بیشک وہ کسی کو کچھ نہیں کہتی لیکن ہمارے بچے جب وہاں سے گزرتے ہیں تو گھر آ کر سوال کرتے ہیں کہ وہ اماں کیوں رو رہی ہے،اس کے بیٹے کو کس نے قتل کیا،ان ظالموں کے کیا نام ہیں۔
ان سوالات کے جوابات دینا ہمارے لئے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
اس سے پتہ چلا کہ جن لوگوں کو ماتم اور گریہ پر اعتراض ہے کہ جو بھی کرنا ہے سڑکوں گلیوں میں مت کرو بلکہ چار دیواری کے اندر کرو کیونکہ جب ان کے بچے یہ سب دیکھتے ہیں تو گھر جا کر سوال کرتے ہیں کہ یہ کیوں ماتم کر رہے ہیں،رو کیوں رہے ہیں،کس نے ظلم کیا،ان ظالموں کے نام کیا ہیں۔
Sajid Iqbal
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Mecca