zee.39

zee.39

Share

i love riding

05/05/2024

زندگی میں ایک بار چاہے قرض مانگ کر چاہے اپنا گردہ بیچ کر چاہے کسی سے فراڈ کرکے باہر کے کسی ملک ضرور جائیے۔ چاہے دوبئی تک ہو آئیے کسی بھی طرح بس ایک دفعہ بیرون ملک سے ہو آئیے۔ تاکہ آپ کو اندازہ تو ہو آپ کس جہنم میں رہ رہے ہیں۔

ڈیفینس چھاونیاں اور بحریہ ٹاون جیسی کچھ سوسائیٹیز پاکستان کے پوش ترین علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ گند دھول مٹی سے اٹے پڑے ہیں۔ ان مہنگے ترین علاقوں میں بھی سانس لینا دشوار ہے۔ نیلا آسمان بارش کے بعد دو گھنٹے دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں پاکستان جتنی گرمی پڑتی ہے لیکن ہر چیز شیشے کی طرح چمک رہی ہوتی ہے۔ بارسلونا، لندن ، ایمسٹر ڈیم کی گلیاں دل موہ لیتی ہیں۔ پاکستان سے باہر جا کر ان گلیوں میں چلتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو دنیا میں جنت مل گئی۔ ہمارا ملک جہنم بنا دیا گیا ہے۔

دنیا میں کسی کو روٹی کپڑے اور مکان کا فکر ہی نہیں ہوتا۔ جو خود کماتے نہیں یا کما سکتے نہیں دونوں صورتوں میں ریاست انکے سر پر موجود ہوتی ہے۔ دنیا کی کسی بھی ویلفئیر سٹیٹ میں پیدا ہونے والے لوئر مڈل کلاس کے بچے کو ملنے والی سہولیات، آزادی اور مواقع پاکستان میں پلنے بڑھنے والے کسی جرنیل یا جج کے بچے سے زیادہ میسر ہیں۔

پاکستان میں رہنا کتوں سے بدتر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے پاس وسائل تھے وہ دوڑ گئے۔ جو کسی مالی یا سماجی مجبوری کی ڈور سے بندھے ہیں وہ حسرت کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔

اس جہنم زدہ زندگی کے دو ہی ذمہ دار ہیں۔ ایک فوج ہے جو ستر سال سے ملک میں طاقتور تھی دوسرے وہ سیاستدان ہیں جو پچھلے چالیس سال سے اس ملک کو جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ باقی جج ، بیوروکریٹ ، افسران ، انتظامیہ ، صحافی سب کے سب ان دو طاقتوروں کے پالے ہوئے کتے ہیں ۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Mecca?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Mecca
24243