Dubai Properties
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dubai Properties, Writer, Riyadh.
وہ وقت کب آئے گا جب ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات سستا آٹا، سستی روٹی، فری راشن، رمضان نگہبان پیکج، بے نطیر انکم سپورٹ، فری مرغیوں، یوٹیلیٹی سٹوروں، لنگر خانوں، سستی سالن کی پلیٹوں جیسے فضول اور نمائشی پروجیکٹس سے نکل کر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری سپورٹ، آئی ٹی لیبز، اورسیز ایمپلائمنٹ، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن، ہیلتھ، بزنس، ایگریکلچر ڈویلپمنٹ، واٹر اینڈ پاور سورسز، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مینیجمینٹ، اونلائن سول سروسز، سٹیٹ آف دی آرٹ سیکیورٹی اداروں اور سرکاری اداروں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال جیسے حقیقی اور بامعنی پروجیکٹس پر مرکوز ہوں گی؟
وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز صاحبہ! آپ کے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سنبھالنے سے پہلے بھی لوگ رمضان گزار رہے تھے اور بعد میں بھی گزاریں گے۔ پھر یہ رمضان نگہبان، فری دوائیاں، فری وائی فائی، بے نظیر انکم سپورٹ اور لنگر خانوں جیسے گھٹیا پروگراموں پر قوم کے سینکڑوں اربوں روپے ضائع کرنے کا کیا مقصد؟ اب صوبے کی ساری مشینری، کمشنرز اور ہزاروں اہلکار رمضان نگہبان پروگرام میں مشغول ہو جائیں گے کیا یہی ترقی کا ایک راستہ نظر آیا آپ کو؟
There's no free lunch in this world.
چائنہ میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ "اگر کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اسے مچھلی نہ کھلاؤ بلکہ اسے مچھلی پکڑنا سکھاؤ"
کیا قوم کو بھکاری بنا کر کھلانے سے ہی قومیں عظیم بنتی ہیں؟
خدارا! ایسے ایڈورٹائزنگ شوشوں پر قوم کا قیمتی سرمایہ ضائع کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں کوئی کام کر جائیں اور اگر نہیں معلوم تو ہم سے پوچھ لیں۔۔!
تحریر: مسعود باجوہ
کلٹ لیڈرشپ سے مراد وہ اثر و رسوخ اور کنٹرول ہے جو ایک مذہبی، پاپولر اور کرشماتی رہنما کسی فرقے، معاشرے یا انتہا پسند گروہ کے اندر اپنے پیروکاروں پر ڈالتا ہے۔ یہ رہنما اکثر جھوٹ، ہیرا پھیری کے ہتھکنڈوں، پروپیگنڈا، شخصیت کے اثرورسوخ، اور اپنے پیروکاروں کی کمزوریوں، جہالت اور خوف سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کلٹ ماحول بناتے ہیں جہاں ذاتی شناخت، نہ کہ کریکٹر، لیڈر اور ان کے عقائد کے گرد مرکوز ہوتی ہے، جس سے شخصیت پرستی کی تباہ کن شکل وجود میں آتی ہے جس کی حالیہ مثال پاکستان میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز اور عمران خان کی کلٹ لیڈرشپ ہے جس سے ملک کا ایک بڑا جاہل طبقہ عمران خان کی شخصیت پرستی کے عتاب کا شکار ہوا ہے۔ عمران خان کی طرح کلٹ لیڈرشپ کی ایک بدنام اور تباہ کن مثال ایڈولف ہٹلر اور جرمنی میں نازی حکومت کی ہے۔ ہٹلر ایک مقناطیسی شخصیت کا مالک تھا اور اس نے بھی عمران خان کی طرح اپنی کرشماتی تقریروں، جھوٹے پروپیگنڈوں اور جذباتی نعروں سے عوام کو بے وقوف بنا کر اپنے ساتھ ملایا، جرمنی کے معاشی، سیاسی اور قومی شناخت کے بحران سے فائدہ اٹھایا۔ خوف کا استحصال کرکے، احساس برتری کو فروغ دیا، اور اندھی وفاداری، قومیت اور جنون کے جذبات کو ابھار کر ہٹلر نے بے پناہ طاقت حاصل کی۔ ہٹلر کی اس کلٹ لیڈرشپ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، لاکھوں لوگوں کے ظلم و ستم اور نسل کشی ہوئی، جنگِ عظیم دوئم لڑی گئی اور بالآخر خود جرمنی سمیت آدھی دنیا کی تباہی کا باعث بنی۔
ایک اور مثال جم جونز ہے، جو امریکہ میں پیپلز ٹیمپل کے بانی تھے۔ جونز نے مذہبی انتہا پسندی، نفسیاتی ہیرا پھیری، خوف کے حربے اور بیرونی دنیا سے تنہائی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے فالورز کے اندر ایک انتہائی کنٹرول کرنے والا ماحول قائم کیا۔ اس کی مذہبی قیادت 1978 میں بدنام زمانہ جونسٹاؤن قتل عام پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں بچوں سمیت 900 سے زیادہ پیروکار بڑے پیمانے پر اجتماعی قتل اور خودکشی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔
اسی طرح انڈیا کے مذہبی گرو دھیریندر برہمچاری اور روس کے راسپوٹین کلٹ لیڈرشپ کی مثالیں ہیں جنہوں نے اپنے کرشماتی شخصیت، مذہب کے استعمال اور پروپیگنڈوں سے عام لوگوں کی عقیدت کا استحصال کیا اور انسانی معاشروں کو تباہ کن نقصان پہنچایا۔
عمران خان جیسے کلٹ لیڈرز اکثر آزاد سوچ اور اختلاف رائے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ یہ افراد کو نام نہاد رہنما کے اختیار، کریکٹر اور غلط فیصلوں پر سوال اٹھانے یا ان کے عقائد کی صداقت کی جانچ کرنے سے روکتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، تحقیق، تنقید، تجزیہ اور موازنےکی پیش رفت رک جاتی ہے، جو کسی قوم، کاروبار، یا برادری کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر کوئی ایک جاہل یوتھیا ایک جھوٹی، پروپیگنڈا یا فحش مواد پر مشتمل ایڈٹ زدہ پوسٹ شیئر کرتا ہے، یا عمران خان کوئی بونگی مارتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے کلٹ لیڈرشپ اور شخصیت پرستی کے زیرِ اثر لاکھوں یوتھیے بغیر تحقیق اور سوچے سمجھے اس جھوٹ کو آگے شیئر کرتے اور پورے ملک میں پھیلا دیتے ہیں اور اسی کو سچ سمجھتے ہیں۔ یہ کلٹ لیڈرشپ اور شخصیت پرستی کی ایک واضح مثال ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس وقت کلٹ لیڈرشپ کے زیرِ اثر ہے جو کسی ٹھوس دلیل ، ثبوت یا حقیقت کو ماننے یا جانچنے کے لیے تیار نہیں۔
تحریر: مسعود باجوہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Culinary Team
Attire
Contact the public figure
Website
Address
Riyadh
12231