Poetry World
Every Day Live Mehfil E Muashaira From Yalla ludo Room PoetryWorld ID3260161516
You can join us on Face Book, YouTube and also on Yalla ludo. urduvibes32
Miss you استاد تجمل کلیم صاحب
اللّہ تعالیٰ غریقِ رحمت فرمائے آمین 🤲😔
عبادت کیا ہے؟ معنی، حقیقت اور عقیدت کی حدیں
اسلامی تعلیمات میں "عبادت" اور "توحید" دین کی اصل بنیاد ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے معاشرے میں عبادت اور عقیدت کے درمیان فرق مٹنے لگا ہے۔ آئیے قرآن و سنت کی روشنی میں چند اہم سوالات کے ذریعے اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
سوال 1: عبادت کی حقیقت کیا ہے اور اس کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے؟
جواب: لغوی اعتبار سے 'عبادت' کا ماخذ 'عبد' ہے، جس کے معنی انتہائی عاجزی، انکساری اور خود کو مکمل طور پر کسی کے سپرد کر دینے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں "عبادت ہر اس ظاہری اور باطنی قول اور فعل کا نام ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔"
عام طور پر صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کو ہی عبادت سمجھا جاتا ہے، جو کہ عبادات کے بنیادی ارکان ضرور ہیں، لیکن عبادت کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت بتایا ہے:
قرآن مجید میں ارشاد ہے: > "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" (سورۃ الذاریات: 56)
ترجمہ: "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔"
زندگی کا ہر نیک عمل، خواہ وہ حلال رزق کمانا ہو، والدین کی خدمت ہو، یا راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، اگر اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو وہ عبادت بن جاتا ہے۔
سوال 2: عبادت کا اصل اور واحد حقدار کون ہے؟
جواب: اسلامی عقیدے کے مطابق عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مختص ہے۔ چونکہ خالق، مالک، اور رازق صرف وہی ہے، اس لیے سجدہ اور بندگی کا حقدار بھی صرف وہی ہے۔
قرآن مجید میں ہم روزانہ اقرار کرتے ہیں:
"إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (سورۃ الفاتحہ: 5)
ترجمہ: "اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔"
اللہ کے سوا کسی نبی، ولی، فرشتے یا قبر کی عبادت کرنا، یا اللہ کی صفات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا "شرک" ہے۔ اور شرک وہ واحد گناہ ہے جس کی معافی نہیں:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ" (سورۃ النساء: 48)
ترجمہ: "بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے گا بخش دے گا۔"
سوال 3: انبیاء، اہلِ بیت، صحابہ کرام اور اولیاء سے ہمارا رشتہ: عبادت یا عقیدت؟
جواب: یہ ایک انتہائی نازک مقام ہے جہاں اکثر لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ، اہلِ بیت اطہار، صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہ سے محبت، لگاؤ اور احترام 'عقیدت' ہے، 'عبادت' نہیں۔
عقیدت کا مقام: یہ ہستیاں اللہ کے برگزیدہ اور مقرب بندے ہیں۔ اللہ کی رضا کی خاطر ان سے محبت کرنا، درود و سلام بھیجنا اور ان کی سیرت کو اپنانا باعثِ ثواب اور ایمان کا حصہ ہے۔
عبادت کا مقام: عبادت میں خالق اور مخلوق کا رشتہ ہوتا ہے۔ جب ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ہمارا معبود ہوتا ہے۔ جب ہم ان مقدس ہستیوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اللہ کے محبوب اور ہمارے محسن ہوتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے خود اس فرق کو واضح کرتے ہوئے غلو (حد سے بڑھنے) سے منع فرمایا:
حدیثِ نبوی ﷺ ہے:
"مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جیسے عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھا دیا تھا، میں تو بس اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔" (صحیح بخاری: 3445)
سوال 4: مشکلات میں پکارنا اور حاجت روائی: درباروں سے مانگنا یا اللہ سے؟
جواب: دعا عبادت کا مغز ہے۔ چونکہ عبادت صرف اللہ کی ہو سکتی ہے، اس لیے غائبانہ طور پر مشکلات میں پکارنا اور مرادیں مانگنا بھی صرف اللہ کا حق ہے۔
حدیثِ مبارکہ ہے: "الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ" (دعا ہی عبادت ہے)۔ (سنن ابی داؤد: 1479)
اللہ کو ہماری دعائیں سننے کے لیے کسی واسطے یا سیکرٹری کی ضرورت نہیں۔
قرآن مجید میں واضح اعلان ہے:
"وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ" (سورۃ البقرہ: 186)
ترجمہ: "اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (بتا دیں کہ) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"
اولاد دینا، بیماریاں دور کرنا، اور رزق میں وسعت دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اولیاء اور پیر بھی اپنی زندگی اور موت کے لیے اللہ کے محتاج ہیں۔ جو خود محتاج ہو، وہ مشکل کشا اور حاجت روا کیسے ہو سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: > "إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ" (سورۃ الاعراف: 194)
ترجمہ: "یقیناً اللہ کو چھوڑ کر تم جنہیں پکارتے ہو وہ بھی تمہاری طرح کے بندے ہیں۔"
ایک اہم اور لمحہ فکریہ: عقیدت میں غلو اور شرکیہ کلام کا فتنہ
آج کل ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا المیہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ محبت اور عقیدت کے نام پر ایسے کلام، نعتیں، منقبتیں یا قوالیاں پڑھی اور پلے (Play) کی جاتی ہیں جن میں کھلم کھلا شرک پایا جاتا ہے۔
کچھ لوگ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کی وہ صفات اور مختارِ کل ہونے کی حیثیت، جو صرف باری تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں، وہ نبی کریم ﷺ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، اہلِ بیت، صحابہ کرام یا اولیاء اللہ سے منسوب کر دیتے ہیں۔ مثلاً کسی بزرگ کو "رزق دینے والا"، "تقدیریں بدلنے والا"، "غیب کا مکمل جاننے والا" یا کائنات کا نظام چلانے والا قرار دے دینا۔
یاد رکھیں! محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیت و اولیاء ہمارے ایمان کی جان ہیں، لیکن خالق کی صفات کو مخلوق میں شامل کر دینا محبت نہیں بلکہ صریح شرک ہے۔ اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ مقامِ مصطفیٰ ﷺ تمام مخلوقات میں سب سے بلند ہے، لیکن پھر بھی آپ ﷺ اللہ کے "بندے" اور "رسول" ہیں۔ حضرت علیؓ اور اولیاء کرام اللہ کے شیر اور اس کے ولی ہیں، لیکن وہ خدائی صفات کے مالک نہیں۔
ایسے کلام پڑھنا، سننا، یا انہیں پھیلا کر ثواب کی امید رکھنا، دراصل اپنی آخرت برباد کرنے کے مترادف ہے۔ عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ان ہستیوں کو اسی مقام پر رکھا جائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔ مخلوق کو خالق کے درجے پر بٹھا دینا دین سے محبت نہیں، دین کو مسخ کرنا ہے۔ ہمیں اپنی محفلوں، موبائل فونز اور روزمرہ زندگی کو ایسے شرکیہ کلام اور عقائد سے پاک رکھنا چاہیے تاکہ ہماری توحید خالص رہے اور ہماری عبادات بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پا سکیں۔
01/03/2026
نظم: مرد آہن
محترم آیت اللہ خامنہ علی ای شہید کے نام
چھوڑ دے اے نوحہ گر اب مرثیہ خوانی نہ کر
آنسوؤں سے آگ کے شعلوں کو یوں پانی نہ کر
وقت ماتم کا نہیں ہے وقت ہے للکار کا
تولنے کا وقت ہے اب قبضۂ تلوار کا
میں نے مانا بزم سے اک، مردِ آہن اٹھ گیا
آج محفل سے ہماری جان محفل اٹھ گیا
میں نے مانا چھن گیا ہے اک مجاہد اک ولی
خون کے طوفان میں ہے آج یہ کشتی چلی
میں نے مانا دل فگار و خوں فشاں ہے آج تو
غم کی شدت سے سرِ راہِ فغاں ہے آج تو
چھن گئی ہے ظلمتِ شب میں ہدایت کی دلیل
ہو گیا ہے خوں میں غلطاں آج اک مردِ خلیل
ہاں مگر اس خون سے اک انقلاب آئے گا اب
ظالموں پر قہر بن کر اک عذاب آئے گا اب
اپنے اشکوں کو اب اپنی تیغِ برّاں کر بھی لے
خونِ ناحق سے رقم عہدِ بہاراں کر بھی لے
رنگ دے اب دشت کو تو غازیوں کے خون سے
توڑ دے طوقِ غلامی جاگ اب اس افسوں سے
دیکھ باطل کے محل کیونکر لرزتے ہیں یہاں
ظلم کے ایوان و خیمے سب جھلستے ہیں یہاں
اٹھ رہی ہے دشت سے وہ آندھی تکبیر دیکھ
ہر مسلماں بن چکا ہے بپھری اک شمشیر دیکھ
خونِ رہبر رائیگاں ہرگز کبھی جائے گا کیا؟
ظلم کا تاریک سایہ دائمی رہ پائے گا کیا؟
گونجتی ہے آج بھی مقتل کی وہ زخمی فضا
دے رہی ہے آج امت کو بغاوت کی صدا
اب نہ رکنا ہے تجھے، ہرگز نہ جھکنا ہے تجھے
آتشِ نمرود میں بھی مسکرانا ہے تجھے
یاد کر وہ بدر و خیبر کی فضائیں یاد کر
ضربتِ حیدر کی وہ کڑکتی صدائیں یاد کر
تو اسی حیدر کا وارث، تو اسی کا نور ہے
پھر ترے سینے میں کیوں یہ بزدلی مستور ہے؟
طاقِ نسیاں پر سجا دے مصلحت کے باب کو
چھین لے طاغوت کی آنکھوں سے باطل خواب کو
ایک طوفانِ بلا اب وادیوں سے آئے گا
خونِ ناحق سے ستم گر کا محل ڈھے جائے گا
خون سے اپنے رقم کر جراتوں کی داستان
یاد رکھے گی جسے ساری زمین و آسمان
ہر مسلماں آج اٹھے، شعلۂ جوالہ بن
وقت کا اک زلزلہ بن، حشر کا ہنگامہ بن
اس شہادت سے ملی ہے، زندگی کو حریت
جس سے اب معمور ہو گی یہ فضائے حریت
دیکھ اس خونِ شہادت سے طلوعِ آفتاب
لا کے چھوڑے گا جہاں میں اک نیا ہی انقلاب
المیر بیخود
Rekhta
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Ali Bin Abi Talib
Yanbu
46024