Al Qalam
Follow for more
06/09/2026
چالاک لڑکی
ایک تاجر نے اپنی دکان پر ایک بورڈ لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا مرد کی عقل عورت کی چالاکی پر غالب آجاتی ہے ۔ ایک روز ایک لوہار کی لڑکی بازار سے گزر رہی تھی ۔ اس کی نظر اس بورڈ پر پڑی ۔ اسے بہت غصہ آیا اس نے سوچا اس تاجر کو سبق سکھانا چاہیے ۔
اگلی صبح وہ خوب بن سنور کر ، اپنی بہترین پوشاک پہن کر تاجر کی دکان پر پہنچی ۔
السلام علیکم، اس نے کہا ۔
و علیکم السلام ، تاجر نے جواب دیا۔
لڑکی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
تاجر کو بہت تعجب ہوا ۔
کیا ہوا بی بی کیوں رو رہی ہو ، تاجر نے پوچھا کیا چاہیے تمھیں، مجھ سے کہو ۔ میں دلا دوں "
لڑکی روتی رہی ۔
بھئی کیوں روتی ہو ، تاجر نے کہا۔ میں نے کہا نا تمھیں جو چاہیے مل جائے گا مگر تم کہو تو کہ تمھیں کیا چاہیے ؟
کاش یہ ممکن ہوتا ، لڑکی نے کہا۔ پھر تاجر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پوچھا " آپکو میری آنکھوں میں کوئی خرابی نظر آتی ہے ؟ " بالکل نہیں، تاجر نے کہا۔
میرے بازوؤں میں ، اس نے اپنے سڈول بازو دکھائے ۔
تمھارے بازو تو بالکل شیشے کے مانند ہیں ۔ سفید جگمگاتے ہوئے تاجر نے کہا۔
لڑکی نے روتے ہوئے اپنے پیروں کی طرف اشارہ کیا۔
تو پھر ان میں کوئی عیب ہوگا؟
نہیں تو ۔ تمھارے پیر تو بڑے خوبصورت ہیں "
لڑکی نے اپنے سر سے رومال ہٹایا اور لمبے لمبے بالوں کو لہرا کر چھوڑا تو وہ ٹخنوں تک آنے لگے ۔ شاید میرے بال اچھے نہیں ہے ؟
تمھارے بال تو ریشم سے زیادہ ملائم ہیں "
لڑکی نے کہا میں داروغہ کی لڑکی ہوں ۔ جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ کہتا ہے میری بیٹی بھینگی ہے ، لولی ہے ، لنگڑی ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے ایسی لڑکی سے کون شادی کرے گا۔
تاجر نے کہا تم فکر نہ کرو کل میں خود داروغہ کے پاس جا کر پیغام دوں گا
اگلے روز صبح صبح تاجر خوب بن ٹھن کر داروغہ سے ملنے پہنچ گیا۔ داروغہ نے اسے دیوان خانے میں بٹھایا اور خاطر تواضع کی ۔ رسمی خیر و عافیت کی باتوں کے بعد وہ مطلب پر آیا ۔
داروغہ نے کہا "میری بیٹی ! میری تو کوئی بیٹی نہیں !
نہیں جناب، تاجر نے کہا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کی ایک لڑکی ہے اور وہ شادی کے لائق بھی ہے ۔
" لیکن میاں وہ تو بھینگی ہے ، "
" مجھے منظور ہے "
لنگڑی بھی ہے"
" مجھے منظور ہے ،
لولی ہے "
"کوئی بات نہیں "
آپ کو دس ہزار دینار دینے پڑیں گے "
تاجر سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر لڑکی کی خوبصورتی کا خیال آیا اور اس نے کہا مجھے منظور ہے ۔
نکاح ہوا ۔ دعوتیں ہوئیں ۔ اب دلھن کو دولھا کے گھر آنا تھا۔
تاجر دلھن کی رخصت کا انتظار کرنے لگا۔ بڑی دیر بعد ایک مزدور آیا اور ایک بڑی سی گٹھری ڈال گیا ۔ تاجر نے سوچا شاید اس میں دلھن کے کپڑے ہیں ۔ پھر خیال آیا ۔ کھول کر دیکھوں تو سہی۔ اس نے گٹھری کھولی تو اس میں ایک لڑکی بیٹھی نظر آئی ۔ بھینگی ، لولی لنگڑی ۔ اب تو وہ بہت چکرآیا ۔ اس نے پوچھا تم کون ہو ۔ لڑکی نے جواب دیا تمھاری دلھن
اب تاجر سمجھا کہ وہ لڑکی اسے بے وقوف بنا گئی۔
کہانی جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط کل اپلوڈ کی جائے گی ۔
اگر کوئی ابھی پڑھنا چاہتا ہے تو کمنٹ میں لنک موجود ہے ۔
05/31/2026
مہنگائی سے تنگ ایک خاندان نے فیصلہ کیا کہ جنگل میں ڈیر ا لگالیتے ہیں ،وہاں پھل اور شکار مل جائے گا اور کوئی جھونپڑی وغیرہ بنا کر گزارہ کر لیں گے ۔اُنہوں نے برگد کے ایک بڑے درخت کے نیچے ڈیرا لگا لیا۔
گھر کے سر براہ نے خاندان کے افراد میں کام تقسیم کیا ،ایک بیٹے کو خشک لکڑیاں لانے کا کہا‘دوسرے کو پانی کی ذمہ داری سونپ دی تیسرے کے ذمہ آگ جلانے کھانا پکانے اور چوتھے کو شکار پر مامور کیا۔
سر براہ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سبھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگے اور اپنے اپنے کام میں مشغول ہو گئے ۔
درخت پر بیٹھی فاختہ یہ منظر دیکھ رہی تھی اُس نے سر براہ سے کہا:تم لوگ کیا منصوبہ بنارہے ہو؟
خاندان کے سر براہ نے کہا:شہر میں قحط اور مہنگائی کی وجہ سے گزارہ مشکل ہو گیا تھا اِسی لئے ہم جنگل میں آگئے ،یہاں شکار کرکے گزارہ کرلیں گے ۔
جیسے خرگوش ‘ہرن اور تم جیسی فاختہ کا شکار کریں گے ۔اگر میں مہنگائی کا حل بتادوں تو میرا شکار چھوڑ دوگے؟فاختہ نے کہا۔
خاندان کے سر براہ نے اثبات میں جواب دیا‘ مگر مہنگائی کا حل کیا کرو گی؟
فاختہ نے جواب دیا:وہ سامنے والے درخت کے نیچے خزانہ دفن ہے تم لوگ وہ لو اور شہر واپس چلے جاؤ اور ہم جانوروں اور پرندوں کو امن وامان سے رہنے دو ۔
گھر کے سر براہ نے بچوں سے مل کر وہ جگہ کھودی وہاں سے سونے سے بھر ا ہوا ایک مٹکا ملا۔اُنہوں نے خزانہ لیا اور فاختہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شہر کا رخ کیا اور خوشحالی زندگی گزارنے لگے۔
اُن کے پڑوسیوں کو پتہ چلا کہ یہ کیسے امیر ہو گئے ۔اُنہوں نے چاپلوسی سے اُن سے راز پوچھا تو سادہ لوح پڑوسی نے سب کچھ بتادیا۔وہ فوراً خاندان سمیت جنگل میں پہنچ گئے اور بچوں کے ذمہ کام لگانے لگا۔
ایک کو کہا تم لکڑیوں کا بندوبست کرو ۔اُس نے کہا میں لکڑہارا نہیں کہ لکڑیاں اکٹھی کرتا پھروں ۔جسے پانی کا کہا،اُس نے کہا:میں ماشکی نہیں جو پانی بھروں ‘اور شکارکرنے والے نے کہا مجھ سے نہیں ہوتا شکارو کار ۔غرض وہ ایک دوسرے کی طرف ٹالتے رہے اور اُن کی نا اتفاق سے کوئی کام بھی نہیں ہوا۔
فاختہ سامنے درخت پر بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی اُس نے سر براہ سے پوچھا:”آپ لوگ یہاں کیا کررہے ہو؟“
ہم لوگ تیرا شکار کرکے گزارہ کریں گے؟
فاختہ نے کہا:جو کچھ کر سکتے ہوتو کرلو تم مجھے شکار نہیں کر سکتے ؟
سربراہ نے حیرت سے وجہ پوچھی تو فاختہ کہنے لگی ۔
آپ لوگوں میں اتحاد واتفاق نہیں ہے تم نے اور کیا شکار کرنا ہے تم مجھے شکار نہیں کر سکتے ۔خاندان کا سر براہ سمجھ گیا چنانچہ وہ ناکام شہر واپس لوٹ گئے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Downtown Miami
Miami, FL