Mr Documentary
DOCUMENTARIES / INFOMENTARIES
History, Profiles, Religion, Culture, Lifestyle, Sci-Tech, etc.
06/10/2026
مرنیوالوں سے سب ہی پیار کرتے ہیں، مختلف مذاھب، ثقافتوں میں مرنیوالوں کی یاد منانے کے مختلف طریقے ہیں مگر انڈونیشیا میں کچھ انوکھا ہوتا ہے۔ یہ لوگ سال میں ایک دن اپنے پیاروں کی لاشوں کو نکال کر گھر واپس لاتے ہیں اور جشن کی صورت میں خوشیاں مناتے ہیں۔ تابوتوں سے نکالے جانیوالے مردے شاید آپ کیلئے خوفناک ہوں مگر یہاں تو سال بھر اس جشن کا انتظار ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں اس جشن کیساتھ پراسرار رسمیں بھی نبھائی جاتی ہیں۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ اس جشن کو مسلمان بھی مناتے ہیں۔
لوگ صرف خود نئے کپڑے نہیں پہنتے بلکہ لاشوں کو بھی نیا ملبوس پہنا کر خوشیوں میں شریک کرتے ہیں، بس یوں جانیں یہ ایک طرح کی عید جیسا تہوار ہوتا ہے۔ یہ جشن بیشتر اوقات اگست یا ستمبر کے مہینے میں منایا جاتا ہے، رقص و سرود کی محفل بھی سجتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ دل ہلا دینے والا منظر ہوتا ہے مگر اس انوکھی رسم کو دیکھنے دنیا بھر سے لوگ یہاں پہنچتے ہیں۔
مردوں کا ہولناک جشن دیکھنے سے پہلے جانتے ہیں توراجا ہیں کون؟
انڈونیشیا کے جنوب میں سولاویسی کا پہاڑی علاقہ اس قبیلے کا مسکن ہے، یہ توراجا قبیلہ کہلاتا ہے جو یہاں صدیوں سے آباد ہے، اس رسم کا نام مانینی اور مردوں کو تائو تائو کہا جاتا ہے۔ توراجا میں ان عقائد کو آلوک کہا جاتا ہے جبکہ حکومت انڈونیشیا اس عقائد کو آلوک تو دولو یعنی آبائو اجداد کا راستہ کے نام سے پہچانتی ہے، مزیدار بات یہ ہے کہ توراجا کے مختلف گائوں میں رہنے والوں میں 86 فیصد عیسائی اور 12 فیصد مسلمان شامل ہیں۔
توراجن میتوں کو کشتی کی طرح بنے ہوئے تابوتوں میں رکھتے ہیں، یہ سلسلہ 17ویں صدی کے پہلے سے جاری ہے، چوری چکاری اور بے حرمتی سے بچانے کیلئے پہاڑوں کی چٹانوں کو قبرستان کی شکل دی جاتی ہے۔ مختلف خاندانوں کے تابوتوں کی جگہ کسی تجوری کی طرح لگتی ہے، سال کے مخصوص دن انکو نکالا جاتا ہے تو نہ صرف مردے کو سجایا بنایا جاتا ہے بلکہ تابوت کی بھی صفائی کی جاتی ہے۔ توراجن کیلئے یہ دن نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، احترام کیساتھ مردوں کو نکالا جاتا ہے، خوشیاں منائی جاتی ہیں، رقص کیا جاتا ہے۔ بھینسوں اور خنزیروں کو ذبح کر کے کھانا بنایا جاتا ہے، مرنیوالے کی لاش کو شان و شوکت کیساتھ دفنایا جاتا ہے، پورے گائوں کی دعوت ہوتی ہے، اگر خاندان کے پاس رقم نہیں تو اسوقت تک مردے کو گھر میں ہی رکھا جاتا جبتک اخراجات کیلئے رقم کا انتظام نہ ہو جائے۔
مانینی، یعنی جس دن مردوں کا جشن منایا جاتا ہے، توراجنز اسے سب سے بڑا تہوار قرار دیتے ہیں، شاندار دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، مردوں کو تابوتوں سے نکال کر اپنے اپنے گھروں میں لاتے ہیں، انہیں نئے کپڑے پہناتے ہیں۔ رشتہ دار اپنے پیاروں کی لاشوں کیساتھ تصاویر اور سیلفی لیتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ کہ اس دل ہلا دینے والے جشن کو دیکھنے دنیا بھر سے لوگ توراجا پہنچتے ہیں۔
انڈونیشیا کے جنوب میں سولاویسی کا پہاڑی علاقہ اس قبیلے کا مسکن ہے، یہ توراجا قبیلہ کہلاتا ہے جو یہاں صدیوں سے آباد ہے، اس رسم کا نام مانینی اور مردوں کو تائو تائو کہا جاتا ہے۔ توراجا میں ان عقائد کو آلوک کہا جاتا ہے جبکہ حکومت انڈونیشیا اس عقائد کو آلوک تو دولو یعنی آبائو اجداد کا راستہ کے نام سے پہچانتی ہے، مزیدار بات یہ ہے کہ توراجا کے مختلف گائوں میں رہنے والوں میں 86 فیصد عیسائی اور 12 فیصد مسلمان شامل ہیں۔
توراجن میتوں کو کشتی کی طرح بنے ہوئے تابوتوں میں رکھتے ہیں، یہ سلسلہ 17ویں صدی کے پہلے سے جاری ہے، چوری چکاری اور بے حرمتی سے بچانے کیلئے پہاڑوں کی چٹانوں کو قبرستان کی شکل دی جاتی ہے۔ مختلف خاندانوں کے تابوتوں کی جگہ کسی تجوری کی طرح لگتی ہے، سال کے مخصوص دن انکو نکالا جاتا ہے تو نہ صرف مردے کو سجایا بنایا جاتا ہے بلکہ تابوت کی بھی صفائی کی جاتی ہے۔ توراجن کیلئے یہ دن نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، احترام کیساتھ مردوں کو نکالا جاتا ہے، خوشیاں منائی جاتی ہیں، رقص کیا جاتا ہے۔ بھینسوں اور خنزیروں کو ذبح کر کے کھانا بنایا جاتا ہے، مرنیوالے کی لاش کو شان و شوکت کیساتھ دفنایا جاتا ہے، پورے گائوں کی دعوت ہوتی ہے، اگر خاندان کے پاس رقم نہیں تو اسوقت تک مردے کو گھر میں ہی رکھا جاتا جبتک اخراجات کیلئے رقم کا انتظام نہ ہو جائے۔
مانینی، یعنی جس دن مردوں کا جشن منایا جاتا ہے، توراجنز اسے سب سے بڑا تہوار قرار دیتے ہیں، شاندار دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، مردوں کو تابوتوں سے نکال کر اپنے اپنے گھروں میں لاتے ہیں، انہیں نئے کپڑے پہناتے ہیں۔ رشتہ دار اپنے پیاروں کی لاشوں کیساتھ تصاویر اور سیلفی لیتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ کہ اس دل ہلا دینے والے جشن کو دیکھنے دنیا بھر سے لوگ توراجا پہنچتے ہیں۔
06/09/2026
شیطان کی بائبل، ایک پراسرار تاریخی دستاویز
دنیا میں آسمانی یعنی اللہ کی کتابیں موجود ہیں، کیا کوئی کتاب ایسی بھی ہے جسے شیطان کی کتاب قرار دیا جائے؟ بوہمیا کی بینڈکٹائن خانقاہ میں لکھی گئی کتاب کو شیطان کی بائبل کیوں کہا جاتا ہے؟ ایک ایسی پراسرار کتاب جسے عوام کی نظروں سے چھپایا جاتا ہے، کیوں کہا جاتا ہے کہ اسے لکھنے والے راہب نے اپنی روح شیطان کو بیچی تھی؟ بڑی عجیب و غریب تاریخ ہے شیطانی بائبل کی جس سے متعدد پراسرار واقعات جڑے ہیں۔،
یہ ہے کوڈیکس گیگاس جسے عام طور پر سیٹینک بائبل یا شیطانی انجیل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ شیطان کی بائبل بلاوجہ نہیں کہا جاتا بلکہ اسے پیچھے تاریخی حقائق ہیں، یہ پراسرار کتاب تیرہوں صدی میں بوہیمیا کی بینڈیکٹائن خانقاہ میں لکھی گئی (بوہیمیا آجکل کے دور میں چیک ریپبلک کہلاتا ہے)۔ یہ پراسرار کتاب 92 سینٹی میٹر لمبی اور 50 سینٹی میٹر چوڑی ہے، لاطینی زبان میں لکھی گئی 620 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا وزن 75 کلو گرام ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ شیطانی بائبل 1204 سے 1230 کے درمیان لکھی گئی ہے۔
اس پراسرار کتاب جس کیساتھ شیطانی معاہدہ جڑا ہے، یہ کتاب 1649 سے اسٹاک ہوم کے نیشنل لائبریری سوئیڈن کے ٹریژری روم میں محفوظ ہے۔ کوڈیکس گیگاس میں مذھبی، سائنسی متن کے علاوہ شیطانی مواد بھی موجود ہے، جس کے بارے میں آپ کو بتائیں گے مگر پہلے جانتے ہیں کہ یہ شیطانی بائبل کس نے اور کیوں لکھی؟
کوڈیکس گیگاس، ہرمن دی ریکلوز نے لکھی جو ایک بینڈیکٹائن راہب تھا اور تیرہویں صدی میں بوہیمیا کے شہر کروڈیم کے قریب رہتا تھا۔ تاریخی حوالوں میں بتایا جاتا ہے کہ ہرمن نے رہبانیت کا حلف توڑا تو اسے سخت ترین سزا کا حقدار قرار دیا گیا، اسے دیوار کیساتھ باندھ دیا گیا تا کہ بھوک اور پیاس سے مر جائے مگر ہرمن نے خانقاہ کے سربراہ ایبٹ سے التجا کی تو اسے ایک سال کی مہلت دی گئی تا کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھ سکے جس میں تمام زمینی علوم شامل ہوں۔ ہرمن سال بھر اس کتاب پر کام کرتا رہا، سال کی آخری رات آ پہنچی مگر کام مکمل ہونے کے قریب تک بھی نہ پہنچا، اب ہرمن کے سامنے موت کھڑی تھی۔ ایسے میں ہرمن نے شیطان سے ایک سودا کیا، ہرمن کو مافوق الفطرت صلاحیت دی جائے تا کہ وہ سال کی آخری رات کتاب مکمل کر سکے اور اسکے عیوض ہرمن نے اپنی روح شیطان کو بیچ دی۔ ہرمن نے کوڈیکس گیگاس کے صفحہ 577 پر شیطان کی تصویر بھی بنائی ہے، جس میں سبز چہرہ، سرخ سینگ، دو سانپ کی طرح لہراتی زبانیں، خوفناک پنجے پھیلائے بازو والا شیطان،،، یہ ایک خوفناک تصویر ہے۔
06/05/2026
دنیا کی پہلی زبان؟ قدیم ترین زبانوں کی تاریخ
دنیا کی پہلی زبان کونسی تھی؟ اس وقت دنیا میں 7 ہزار زبانیں موجود ہیں مگر 90 فیصد ختم ہونیوالی ہیں چونکہ ان کے بولنے والے ہزاروں یا سیکڑوں میں ہیں۔ اب بھی دنیا میں ہزاروں سال پرانی زبانیں موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ انسان نے کب زبان بولنا سیکھا، پہلی زبان کون سی تھی۔ تاریخ داں اور ماہر لسانیات یہ سلسلہ لگ بھگ 5 ہزار سال پہلے شروع ہوا۔ چلیں زبانوں کی تاریخ جانتے ہیں، اس داستان میں ایسا بہت کچھ ہے جو آج کے انسانی معاشرے کیلئے حیران کن اور نئی دریافت جیسا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصہ انسان اشاروں، لایعنی صوتی تاثرات، نعروں اور دیگر ذرائع سے رابطوں کا کام لیتا رہا، پھر لفظ اور جملے وجود میں آئے ہونگے۔ سچ پوچھیں تو عہد قدیم میں انسانی تاریخ جوکھم کا کام ہے، ہاں مگر یہ ضرور ہے کہ جدید ترین تحقیقات کے مطابق دنیا کی قدیم ترین زبان کی تاریخ 5 ہزار سال قدیم دریافت کی گئی ہے۔ آئیے آج جانتے ہیں دنیا کی قدیم زبانیں کون سی تھیں، جی ہاں ماضی کا صیغہ اسلئے استعمال کیا ہے کہ بیشتر قدیم ترین زبانیں وجود کھو بیٹھیں۔ مگر اب بھی دنیا میں ہزاروں سال پرانی زبانیں رائج ہیں، آگے چل کر آپ کو بتائیں گے کہ آج دنیا میں کون سی قدیم ترین زبانیں رائج ہیں، شاید یہ معلومات آپکے لئے حیران کن ثابت ہو۔
اب تک ہونیوالی لسانی تحقیقات کے حوالے سے قدیم ترین زبانوں میں سمیری، اکادی، سامی اور مصری غیر سامی زبانیں شامل ہیں جو آج دنیا میں موجود نہیں، سمیری تہذیب میسوپوٹیمیا خطے سے تعلق رکھتی ہے جو آج عراق کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ سمیری زبان کم و بیش 3100 سال قبل مسیح گویا 5 ہزار سال پرانی ہے۔ سمیرین کیونی فارم رسم الخط منیں لکھی جاتی تھی جو آج تاریخی نوادرات کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اسی خطے یعنی میسوپوٹیمیا میں دوسری تہذیب عکادی کہلاتی ہے، اسکا تعلق 2500 قبل مسیح سے ہے اور اکادی زبان بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ اس زبان کے بھی نمونے دریافت کیے جا چکے ہیں، عکادی زبان کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اسکی کوکھ سے عبرانی اور عربی زبانوں نے جنم لیا۔ قدیم مصری زبان، یہ غیر سامی زبان ہے اور مصر میں لگ بھگ چار ہزار سال پہلے یعنی 3200 قبل مسیح رائج تھی، صدیوں کے سفر میں یہ زبانیں اپنا وجود کھو بیٹھیں۔ چلیں جانتے ہیں ہماری دنیا میں بولی یا لکھی جانیوالی زبانوں میں قدیم ترین کونسی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائینگے آج بھی ایسی زبانیں موجود ہیں جو ہزاروں سال سے زندہ ہیں۔
آج ہماری دنیا میں بولی جانیوالی قدیم ترین زبانیں کون سی ہیں؟ پہلے نمبر پر ہے تامل زبان، جی ہاں ہندوستان کا علاقہ تامل ناڈو، تاریخی حوالوں کے مطابق تامل زبان 3000 قبل مسیح سے موجود ہے، آپ یہ جان کر بھی حیران ہونگے کہ تامل زبان صرف انڈیا نہیں بلکہ سری لنکا اور سنگا پور کی سرکاری زبانوں میں شامل ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا قدیم ترین ادب بھی تامل زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ 2 ہزار سال پہلے کے شاعر تھروولوور کا مجموعہ جسے تھروکورل کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ سچ ہے کہ موجودہ تحقیقات کے مطابق تامل دنیا کی قدیم ترین زبان ہے۔
دوسرے نمبر پر کوئی اور نہیں بلکہ سنسکرت زبان، اس کی مذھبی حیثیت بھی ہے اور سنسکرت ہندو مت، بدھ اور جین مت کی زبان مانی جاتی ہے۔ وید، اپنشد، مہا بھارت اور رامائن جیسی مقدس کتابوں کے باعث اسے دیوتائوں کی زبان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بولی جانیوالی ہندی کے علاوہ متعدد زبانوں نے سنسکرت سے ہی جنم لیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ سنسکرت کی گرامر کو سب سے پہلے پانینی نے اپنی تصنیف اشٹادھیانی میں مرتب کیا تھا۔ چوتھی صدی قبل مسیح کی مرتب کردہ سنسکرت گرامر کا آج بھی مطالعہ کیا جاتا ہے۔
تیسرے نمبر پر ہے چینی زبان، ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریر کی شکل کے حوالے سے بات کی جائے تو چینی زبان قدیم ترین ثابت ہوتی ہے، چینی طرز تحریر کے 1250 قبل مسیح کے لکھی قدیم تختیاں اسکا ثبوت ہیں۔ بہرحال جناب یہ بھی سچ ہے کہ تاریخ میں چینی زبان کے کئی ڈائیلیکٹ سامنے آتے ہیں، کینٹونیز، وو، ژیانگ، پوتونگھوا، من، گان وغیرہ وغیرہ، آجکل جو چینی زبان ایک ارب سے زیادہ لوگ بولتے ہیں اسے میڈارن کہا جاتا ہے
چوتھے نمبر پر ہے عظیم فلسفیوں کی زبان یونانی یا گریک، 1450 قبل مسیح بحیرہ روم کی دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانیوالی زبان ہوا کرتی تھی۔ عظیم بازنطینی سلطنت کی قومی زبان بھی یہی تھی، عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل کی زبان، پھر اسی قدیم یونانی زبان سے جدید زبان نکلی جو آج بولی جاتی ہے، یونان اور قبرص کی سرکاری زبان کو آج 13 ملین سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں
دنیا کی قدیم ترین پانچویں زبان عبرانی ہے، بنی اسرائیل کی زبان، یہودیت اور سامریت مذھبی زبان، عبرانی، کنعانی زبانوں کی علاقائی بولی کے طور پر استعمال کی جاتی تھی، عبرانی قدیم سے جدید تک لگ بھگ تین ہزار سال پرانی زبان ہے۔
لاطینی بھی ایک قدیم اور مذھبی زبان ہے، ساتویں صدی قبل مسیح لاطیم میں بولی جاتی تھی، یہ روم کے اطراف کا علاقہ ہے۔ سلطنت روم کے بعد یہ سرکاری زبان بنی، عیسائیت کیساتھ فروغ پاتی رہی، یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے کئی علاقوں میں بولی جاتی تھی۔ گو کہ آج لاطینی ایک مردہ زبان قرار دی جاتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ انگریزی زبان میں ساٹھ فیصد لاطینی شامل ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں یورپ کی بیشتر زبانوں میں جیسے اطالوی، فرانسیسی، ہسپانوی اور رومانوی زبان میں بھی لاطینی کا گہرا اثر ہے۔
اس کے بعد ساتویں نمبر پر آتی ہے فارسی یا پرشین، فارس دنیا کی عظیم سلطنت ہوا کرتا تھا، فارسی زبان لگ بھگ 550 قبل مسیح سے موجود ہے، یہ زبان ایران کی سرکاری زبان ہے جبکہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر خطوں میں بولی جاتی ہے۔ فارسی نے دیگر دیگر زبانوں کو بھی متاثر کیا ہے جن میں اردو اور ترکی زبان شامل ہیں۔
آٹھویں نمبر پر ہے عربی، تقریبا 2500 سال قدیم زبان، ابتدا جزیرہ نما عرب سے ہوئی، مذھب اسلام کی زبان، قران مجید عربی زبان میں نازل ہوا۔ عربی زبان کے مختلف ڈائلیکٹس ملتے ہیں مگر یہ ایشیا ہی نہیں بلکہ افریقہ میں بھی بولی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ 420 ملین افراد عربی بولتے ہیں۔
باسک زبان، مغربی یورپ میں بولے جانیوالی قدیم زبان ہے۔ پہلی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھنے والے یہ زبان اسپین اور فرانس کے تقریبا 10 ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں اب بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران 1936 میں پہلی بار اس باسی زبان کو سرکاری حیثیت میں ملی تھی۔ یہ عہد قدیم کی پیلیو یورپین زبانوں میں بچ جانیوالی واحد زبان شمار کی جاتی ہے۔
آرمینیائی زبان، دنیا کی قدیم زبانوں میں دسویں نمبر پر آتی ہے اور اسکا تعلق 405 عیسوی سے ہے۔ آرمینیا کی سرکاری زبان، اسکے علاوہ جارجیا سمیت روس کے کئی علاقوں، ایران، مصر، آذر بائیجان، لبنان عراق، فرانس، بلغاریہ اور امریکہ کے بعض علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا میں 7 ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، لسانیات کی معروف ویب سائٹ ایتھینیلوگ کے مطابق ان میں سے 90 فیصد زبانیں ایسی ہیں جنہیں بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے جبکہ دو سو سے ایک سو پچاس زبانیں ایسی ہیں جنکو بولنے والوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچتی ہے۔ 357 زبانیں ایسی ہیں جنہیں بولنے والوں کی تعداد 50 سے بھی کم ہے اور یہ زبانیں جلد ناپید ہو جائینگی۔
تو جناب یہ تھی زبانوں کی تاریخ، اب ہم جان سکتے ہیں ہماری زبان اردو تو ابھی کل کی بات ہے، زبانوں کی دنیا 5 ہزار سال سے آباد ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Address
Hillside Avenue
Queens, NY
21309B