Net Speed Meter

Net Speed Meter

Share

To expose the chor company / hidden devils inside us. To bring a positive changes.

22/01/2023

گمنامی میں وڑ جاؤں گا بھی اس کا جھوٹ نکلا...
‏دبئی سے آنے والی فلائٹ میں محسن نقوی سے محو گفتگو ہے... وہ ہی محسن نقوی جو کہ انتہا درجے کا کرپٹ اور مخالف ہے عمران خان کا اور اسکا نام کمپنی اور ان کا مشرکہ نگران وزیراعلی ..

28/11/2022
20/10/2022

سب حیران ہیں کہ مریم صفدر اتنی عجلت میں لندن کیوں گئی. اب اصل خبر سامنے آئی ھے کہ نوازشریف لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنس بیچنا چاہتے ہیں انہوں نے لندن کے ایک دوسرے علاقے میں پراپرٹی خرید لی ھے جس میں ایک بڑا اور پرتعیش فارم ہاوس بھی شامل ھے. چونکہ ایون فیلڈ فلیٹس میں اوورسیز پاکستانیوں نے شریف خاندان کا جینا محال کر دیا ھے اس لئے وہ وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں. اب شریف خاندان کا مسئلہ یہ تھا کہ مریم صفدر کے بنا وہ ایون فیلڈ فلیٹس فروخت نہیں کر سکتے کیونکہ ان فلیٹس کی بنیفیشری مریم صفدر ھے یعنی یہ ان کے نام پر ھے
یاد رہے کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے پاکستانی عدالتوں نے مریم کو ان فلیٹس کے کیس میں "باعزت " بری کر دیا ھے۔۔۔
یہ ھے مریم صفدر کے جانے کی اصل حقیقت۔

پاکستانیو یاد ہے نا، میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہی.

19/10/2022

اسٹیبلشمنٹ کی بوکھلاہٹ دیکھنے لائق ہے۔ کہیں سعد رضوی کی لانچنگ ہو رہی ہے تو کہیں شہیر سیالوی بھارت کو للکارتا نظر آتا ہے ۔ کہیں جنرل فیض کی خوش باش ویڈیوز گھوم رہی ہیں تو کہیں پی ڈی ایم راہنماؤں کو اپنے خلاف بیان بازی کا ٹاسک تھمایا ہوا ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ یہ غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ اور ایسے میں یہ وہ تمام حربے استعمال کر رہے ہیں جو انھیں دوبارہ وہی فیصلہ سازی کا مقام دے سکیں ۔ عوام میں پھر سے "بادشاہ گر" کا تأثر بنا سکیں۔ خود کو واحد فیصلہ ساز منوا سکیں لیکن اس دفعہ یہ نہ صرف ملکی سیاست ، نظام حکومت بلکہ عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں چہ جائیکہ عالمی سطح پہ ان کو فیصلہ ساز مان کر طاقتور ممالک پھر سے ان کے ساتھ ڈیلنگ کی کوشش کریں ۔ اب یہ مکمل طور پہ غیر متعلقہ فریق بن چکا ہے جو اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔ پی ڈی ایم کے ساتھ ساتھ یہ بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اس کیلئے جہاں ایک طرف نئے گروپس لانچ کئے جا رہے ہیں ، وہیں پرانے خیر خواہوں سے اپنے خلاف بیان دلوا کر قوم کے قریب ہونے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ رہا عالمی منظر نامہ تو اس میں اپنی وقعت ثابت کرنے کےلیے ہی انھوں نے مخصوص آٹھ حلقوں میں ضمنی الیکشن کا کھیل کھیلا تھا تاکہ عمران خان کی مقبولیت کے تأثر کو زائل کر کے اپنا کھویا ہوا مقام بحال کر سکیں. لیکن وہ اکیلا سات حلقوں میں جا کھڑا ہوا اور بدترین دھاندلی کے باجود ملک کے ہر کونے سے مخالفین کو بچھاڑ کر ان کا یہ داؤ بھی انھی پہ پلٹ گیا۔ ایک حلقے میں بیلٹ پیپر ہی غائب ہو گئے تھے لہٰذا وہاں نئے الیکشن کا مطالبہ دہرا کر کپتان نے ایک اور چیلنج دے دیا ہے لیکن یہ اب میدان میں لڑنے سے ڈر رہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ تب تک کنگ میکر تھی جب تک وہ مختلف چوروں کے گروہوں کے درمیان کھیلتی تھی اور سب کی کمزوریوں کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر اقتدار کی بندر بانٹ کیا کرتی تھی ۔ عمران خان کی تحریک نے اس روایتی سیاست میں بھونچال پیدا کر کے چالیس سال سے جمود کی شکار سیاست میں ایک ایسا دھماکہ کیا جس سے ان کے کانوں کے پردے پھٹ گئے۔ چالیس سال سے نظام سے چمٹی ، خون چوستی جوؤں کو عمران خان نے اکھاڑ پھینکا تو اسٹیبلشمنٹ کو پہلی دفعہ حقیقی خطرہ محسوس ہوا۔ آر ٹی ایس سسٹم بند کر کے اس کی تیس کے قریب سیٹیں چھین کر اسے بھی اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کی اور روایتی اتحادیوں کو اس کے ساتھ جوڑ دیا لیکن عمران خان تو کوئی روایتی سیاستدان تھوڑی تھا۔ وہ بائیس سال تک ملک کی گلی گلی کی سیاست سمجھ کر اور گراؤنڈ ورک کرنے کے بعد ، بار بار شکست کھانے کے بعد ، نوجوان نسل کو اس روایتی گند کے سامنے ایک جدید شفاف و عدل پسند ریاست کے خواب دکھا کر اور اس مافیا سے لڑ کر یہاں تک پہنچا تھا ۔ اس نے بچے بچے کو کرپشن کے معانی و مفہوم سمجھا کر فتح حاصل کی تھی ۔ اس کی جڑیں عوام کے اندر اس قدر گہری تھیں کہ سو شکؤوں کے باوجود جب اس کی حکومت کو خطرہ محسوس ہوا تو قوم میں ایک ہلچل مچ گئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس شخص سے پنگا لیا اور پھر ان تمام چوروں لٹیروں اور غداروں کو اکٹھا کر کے اقتدار تھما دیا۔ اب تو اندھوں کو بھی نظر آنے لگا تھا کہ کیا چل رہا ہے ۔ اوپر سے امریکہ بہادر کی جانب سے دھمکی کا ڈاکومنٹڈ ثبوت ہاتھ لگا تو قوم کا لیڈر اس کاغذ کے ٹکڑے کو لیکر عوام میں پہنچ گیا اور ایسا کھیلا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا طاقت کے مضبوط ایوانوں کو ہلا گیا۔ اب اسٹیبلشمنٹ اپنی بقاء کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب وہ غیر متعلقہ فریق ہیں جن کی طاقت کے یہ آخری دن ہیں۔ اب نہ تو وہ کبھی عوام میں مقبولیت حاصل کر پائیں گے اور نہ ہی عالمی منظر نامے پہ براہِ راست ملکی فیصلے کر پائیں گے کیونکہ اب طاقت ان کے ہاتھوں سے پھسل کر عوام کی جھولی میں آن گری ہے۔ اب قوم کا بچّہ بچّہ چلا رہا ہے کہ یہ میرا ملک ہے اور اس کا فیصلہ میرا اور بائیس کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ کرے گا. نہ کہ کسی فون کال یا دھمکی آمیز خط پہ قوم و ملک کا سوداگر ، دو کوڑی کا کوئی سرکاری ملازم ۔۔۔۔۔

75سالوں کا بھرم پچھلے چھ ماہ میں اس طرح ٹوٹا ہے کہ اب ٹکڑے چننے میں ہی اگلی کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ دیکھنے والے مستقبل کے منظر نامے میں اب اسٹیبلشمنٹ کو کسی فیصلہ ساز قوت کے طور پہ نہیں دیکھ پا رہے ۔ فیصلہ سازی کا اختیار جمہور کے پاس آ رہا ہے ۔

منقول

Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company in Cabritaberg?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Cabritaberg
Cabritaberg
10010